پولیو وائرس نے چاروں صوبوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

پولیو کے تدارک کیلئے حکومتی کوششوں اور دعوؤں کے باجود پولیو وائرس پر قابو نہ پایا جاسکا، رواں سال کے اختتام تک پولیو وائرس کی سنچری مکمل ہونے کا خدشہ ہے، اب تک وائلڈ پولیو وائرس کے کل 86 کیسز  کے علاوہ پولیو ٹائپ ٹو وائرس کے بھی 9 کیسز سامنے آچکے ہیں حالانکہ پولیو ٹائپ ٹو وائرس کا 1999 میں ملک سے خاتمہ ہوچکا تھا۔

انسداد پولیو پروگرام کے اعداد و شمار کے مطابق 2019 کے دوران پولیو نے ملک کے چاروں صوبوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، محض اسلام آباد، کشمیر و گلگت بلتستان پولیو وائرس سے محفوظ ہیں۔

خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع بنوں، ہنگو، ڈی آئی خان، شانگلہ، طورغر، لکی مروت، چارسدہ، باجوڑ، خیبر، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور ٹانک میں پولیو کے کل 64 کیسز سامنے آئے ہیں جن میں سے محض بنو ں میں پولیو کے 23 کیسز رجسٹر ہوئے ہیں۔

صوبہ بلوچستان کے 4 اضلاع جعفر آباد، قلعہ عبداللہ، کوئٹہ و ہرنائی میں7 کیسز سامنے آچکے ہیں۔

اسی طرح صوبہ پنجاب کے 2 اضلاع لاہور اور جہلم میں 5 کیسز رجسٹرڈ ہوئے ہیں جبکہ صوبہ سندھ کے 8 اضلاع لیاری ٹاون، گلشن اقبال، اورنگی ٹاون، لاڑکانہ، حیدرآباد، جامشورو، سجاول اور جمشید ٹاون میں پولیو کے 10 کیسز سامنے آچکے ہیں۔

انسداد پولیو پروگرام کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 1999 میں اس وائرس کا خاتمہ ہوچکا تھا، پولیو کی 3 اقسام میں سے اب ٹائپ ون و ٹو کی ویکسین ہی پلائی جارہی تھی کیونکہ عالمی ادارہ صحت نے ہی 2016 میں پولیو ٹائپ ٹو کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔