گلگت بلتستان : داریل میں سکولوں کے تحفظ کیلئے کمیٹیاں تشکیل اور پاک فوج کے حق میں ریلی

وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید اور چیف سیکرٹری کے خصوصی احکامات کی روشنی میں حالیہ داریل کے سکول جلانے کی واقعے کے بعد سکولوں کے تحفظ کے لیے اہم اقدامات اور پیشرفتہوے ہیں.

میڈیا رپورٹ کے مطابق ضلعی انتظامیہ دیامر کی طرف سے مرتب کیا گیا سیکیورٹی پلان پر عملدرآمد کے لئے سکول تحفظ کمیٹیاں تشکیل دیدی گئیں۔

سکول تحفظ کمیٹی میں علماء کرام، عمائدین، یوتھ، مجسٹریٹس اور پولیس شامل ہیں۔

کمیٹیاں سب ڈویژن داریل میں اپنے اپنے علاقوں کے سکولوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے اپنا بھرپور کردار ادا کرینگی اور سکولوں کی بہتری کے لئے ہر وقت انتظامیہ، محکمہ تعلیمات اور اداروں کے ساتھ بروقت رابطہ کریں گی۔

کمیٹیاں سکول کے اطراف میں کسی بھی قسم کی مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے ساتھ فوری طور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو اطلاع دینگی۔

یاد رہے کہ دو روز قبل گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کی تحصیل داریل میں شرپسندوں نے گرلز مڈل سکول کی عمارت کو جلا دیا تھا۔ اس سے پہلے 2018، 2011 میں بھی سکولوں پر حملے ہوئے تھے۔ دیامر میں شدت پسندوں کا گروہ لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف ہے۔

دسرے جانب گلگت میں پاک فوج کے حق میں ریلی نکالی گئی۔ مقامی شہریوں کی جانب سے نکالی گئی ریلی میں قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے طلبہ اور دیگر مقامی شہری شریک ہوئے۔

ریلی کے شرکا کا کہنا تھا کہ پاک فوج ہماری ریڈ لائن ہے، اگر کسی نے ریڈ لائن کراس کرنے کی کوشش کی تو عوام انہیں جواب دینگے۔

اگر ہم آپس میں لڑیں اور اپنی آرمی کا خیال نہ رکھیں تو ہمارا حال بھی افغانستان جیسا ہوگا، اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہمیں مل جل کر اپنی فوج کا ساتھ دینا ہوگا۔

پاک فوج اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ہمارے مستقبل کو محفوظ بنا رہی ہے۔ اس لیے گلگت بلتستان کا بچہ بچہ بغیر وردی کے سپاہی ہے۔ دوسری جانب بلتستان کے ضلع شگر میں بھی پاک فوج کے حق میں ریلی نکالی گئی۔