کرتاپور کے طرز پر غلام سرحد بھی کھولی جائے

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

شمالی وزیرستان میں اتمانزئی قبیلہ کے عمائدین نے علاقے میں بدامنی اور متاثرین کو واپس بھجوانے کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

میرعلی میں ڈھول کی تھاپ پر احتجاج کرتے ہوئے مظاہرین کا کہنا تھا کہ افغانستان میں مقیم متاثرینِ شمالی وزیرستان کو جلد از جلد واپس بلایا جائے جبکہ ملک کے اندر موجود متاثرین کی واپسی کیلئے بھی راستے کھول دیے جائیں۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ بکا خیل کیمپ کو مکمل طور پر ختم کیا جائے، کرتارپور کی طرح غلام خان سرحد بھی تجارتی سرگرمیوں کے لئے کھولی جائے اور غلام خان کسٹم کو بنوں منتقل کیا جائے۔

مظاہرین نے کہا کہ ضرب آپریشن کے پانچ سال بعد بھی علاقے میں بدامنی کے واقعات پیش آرہے ہیں اور گزشتہ ایک فت کے دوران دو مقامی افراد قتل کیے جا چکے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ روز بھی میرعلی و گردونواح میں کئی بااثر مقامی شخصیات کو قتل کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں جس کی وجہ سے وہ احتجاج پر مجبور ہوئے ہیں۔