خیبرپختونخوا پولیس نے افغانستان میں مقیم بھتہ خوروں کا ڈیٹا افغان حکومت کے حوالے کردیا

خیبر پختونخوا پولیس نے پشاور سمیت صوبہ بھرمیں تاجروں اور شہریوں سے کروڑوںروپے کابھتہ وصول کرنے والے افغانستان میں مقیم بھتہ خوروں کا ڈیٹا افغان حکومت کے حوالے کرتے ہوئے ان کے خلاف فوری آپریشن کا مطالبہ کیاہے.

میڈیا رپورٹس کے مطابق صوبائی محکمہ پولیس نے صوبہ میں بھتہ خوری کی وارداتوں میں استعمال ہونے والے 1485 افغان موبائل سم افغان سفیر کے حوالے کرکے دوسرے شواہد بھی مہہیا کردئیے ہیں ۔

صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت صوبہ بھرکے تاجروں اور شہریوں سے گزشتہ دو سالوں کے دوران عسکریت پسندوں کے نام پر بھتہ خوروں نے اربوں روپے وصو ل کئے ہیں.

اس دوران کائونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور پولیس نے درجنوں بھتہ خوروں اوران کے سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا ہے جس کے بعد بھتہ خوروں نے تاجروں اور شہریوں سے لوکل موبائل نمبروں سے بھتہ طلب کرنا بند کردیا.

میڈیا رپورٹس کے مطابق مزید گزشتہ چند ماہ سے پشاور اور صوبہ بھرکے تاجروں اور شہریوں سے افغانستان کے نمبروں سے بھتہ طلب کیا جارہاہے ٗ

قانون نافذکرنے والے اداروں کے مطابق گزشتہ دو سالو ں کے دوران درجنوں بھتہ خوروں اور ان کے سہولت کاروں کی گرفتاری کے بعد اب انہوں نے بھی طریقہ کار تبدیل کردیا ہے.

انہوں نے بتایا کہ ابتداء میں بھتہ پشاور اور علاقہ غیر میں وصول کیا جارہاتھا اب بھتہ خورگرہوں نے افغانستان کی حدود میں تاجروں کو بلا کر بھتہ وصول کرنا شروع کردیا ہے ٗآئے روزگھروں ٗدفاتر اور دکانوں کے سامنے بم دھماکوں کے بعد جب بھی تاجر مقدمات درج کرانے کے لئے جاتے ہیں.

رپورٹس کے مطابق انہیں بتایا جاتاہے کہ تاحال پولیس اور دیگر اداروں کے پاس افغانستان کے سم نمبروں کی تفصیلات معلوم کرنے کاکوئی انتظام نہیں جس کے بعد گزشتہ چند ماہ کے دوران صوبہ بھر کے درجنوں تاجر افغانستان میں بھتہ کی ادائیگی کر چکے ہیں.

ٗقانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق اب بھتہ خوری میں تین گروہ ملوث ہیں اور وہ تینوں افغانستان کی حدود سے دھمکی آمیز کال بھی کرتے ہیں اوران سے افغانستان میں بھتہ بھی وصول کررہے ہیں.

افغانستان میں پرچائو ٗچکناور اور لعل پورہ میں بھتہ خورو ں نے اپنے اپنے مراکز قائم کررکھے ہیں ٗافغانستان کے نمبروں سے بار بار بھتہ کی کالیں موصول ہونے کے بعد پولیس حکام نے فون کمپنیوں سے ان نمبروں کا ڈیٹا حاصل کرنے کی کوششیں کی جو سودمند ثابت نہیں ہوئیں.

ٗخیبر پختونخوا پولیس نے افغانستان کی حدود میں قائم ان بھتہ خور گروہوں نے خلاف افغانستان حکومت سے مطالبہ کیا ہے اور افغان گورنمنٹ کو مسلسل بھتہ خوری میں ملوث 1500موبائل نمبروں کا ڈیٹا حوالے کردیا ہے.

انہوں نے مطالبہ کیاہے کہ ان بھتہ خوروں کے خلاف کاروائی کی جائے تاکہ پشاوراور صوبہ خیبر پختونخوا کے تاجروں ان سے محفوظ ہو جائے ٗ.

واضح رہے کہ یہ بھتہ خور گرفتار خیبرپختونخوا کے تاجروں اور شہریوں سے کروڑوں روپے کا بھتہ وصول کر چکے ہیں ۔