شوال بلڈنگ کو زیادہ آبادی والے علاقہ میں تعمیر کرنے کا مطالبہ

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

جنوبی وزیرستان کے تحصیل میں شوال تحصیل بلڈنگ کی تعمیر کے معاملہ پر قبائل کا ضلعی انتظامیہ کے ساتھ گرینڈ جرگہ کا انعقاد ہوا.

عبد الائی اور بی بی زئی محسود قبائل نے شوال بلڈنگ کو زیادہ آبادی والے علاقہ میں تعمیر کرنے کا مطالبہ کر دیا

عبدالائی اور بی بی زئی محسود قبائل کا شوال تحصیل بلڈنگ کے معاملہ پر ایک اہم جرگہ سوموار کے روز پولٹیکل کمپاؤنڈ ٹانک میں منعقد ہوا جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان فہید اللہ سمیت دونوں قبائل سے تعلق رکھنے سرکردہ قبائلی عمائدین نے شرکت کی.

جرگہ سے سابق وفاقی وزیر ملک عبدالقیوم، ملک اے ڈی خان محسود،ملک گل کرم اور ملک فیض اللہ سمیت دیگر قبائلی عمائدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی وزیرستان کی خوبصورت اور حسین وادی شوال کو تحصیل کا درجہ دینے کے بعد سرکاری بلڈنگ کی تعمیر کی منظوری ہو چکی ہے جس پر ہم قبائل کور کمانڈر اور آئی جی ایف سی ساؤتھ کی کوششوں پر مشکور ہیں

انہوں نے ذاتی دلچسپی لیکر علاقہ کی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے شوال کو تحصیل کا درجہ دلوانے میں اپنا اہم کردار ادا کیا.

ان کا مذید کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ مذکورہ بلڈنگ کی تعمیر کو زیادہ آبادی والے علاقہ میں یقینی بنائے تاکہ قبائلی عوام کے مسائل ان کے گھروں کی دہلیز پر حل ہو سکیں .

انہوں نے کہا کہ بعض عناصر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال میں لاکر مذکورہ بلڈنگ کو دور افتادہ اور غیر موضوع علاقہ میں تعمیر کروانا چاہتے ہیں جس کی وجہ سے ساٹھ ہزار کی آبادی براہ راست متاثر ہونے کا اندیشہ ہے.

مقررین نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں حکومتی سطح پر وفد تشکیل دیں تاکہ وہ علاقہ کادورہ کر کے بلڈنگ کی تعمیر کے لئے موذوں جگہ کا انتخاب کریں اور مسئلہ کے حل کے لئے سنجیدگی سے اقدامات اٹھائیں تاکہ قبائل کی اکثریت میں پائی جانیوالی بے چینی کا خاتمہ ہو سکے.

اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فہید اللہ نے جرگہ سے خطاب کیا اور کہا کہ عنقریب حکومتی حکام کا ایک وفد علاقہ کا دورہ کریگا جو بلڈنگ کی تعمیر کے لئے موذوں جگہ کا انتخاب کریگا حکومت قبائلی عوام کی فلا و بہبود اور ان کی ترقی کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے .

جبکہ اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھایا گیا ہے جسکی تکمیل سے جنوبی وزیرستان میں خوشحالی آئے گی اور ایک عام قبائلی ان منصوبوں سے مستفید ہو سکے گا۔۔۔