ہمزونی اور دڑپہ خیل کے ملکان و مشران کے سول و عسکری قیادت کے ساتھ اہم جرگے

‎شمالی وزیرستان میں امن و امان کی بحالی کے ساتھ ساتھ عوام کے مسائل حل کرنے کی خاطر جاری جرگوں میں آج مزید دو اہم جرگے جی او سی شمالی وزیرستان میجر جنرل محمد نعیم اختر کی زیرِ صدارت منعقد ہوۓ ۔

مطابق ایک میں ہمزونی قبیلے کے تمام ملکان و مشاران نے شرکت کی. جبکہ دوسرا جرگہ دڑپہ خیل کے مشران کے ساتھ ہوا

‎جنرل صاحب نے ملکان سے مخاطب ہو کر کہا کہ وزیرستان کے سیکورٹی حالات میں بہتری آئی ہے اور اس کو مزید پرامن بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ادارے اور عوام ملکر کام کریں۔

پچھلے بیس سالوں میں عوام اور فوج نے بے انتہا قربانیاں دی ہیں اور اب جبکہ امریکی فوج بھی واپس چلی گئی ہے تو اب یہ شر پسند عناصر کس کے خلاف جہاد کر رہے ہیں۔

جنرل صاحب نے مشران سے کہا کہ امن قائم کرنے کے لیے دو راستے ہیں ایک تو یہ ہے کہ شر پسند عناصر امن کا راستہ اپنا لیں، ان کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے یا پھر دوسرا یہ کہ ہمزونی اور دڑپہ خیل والے یہ عہد کر لیں کہ وہ ان لوگوں کی سہولت کاری نہیں ہونے دیں گے۔

‎اس کے علاوہ امن قائم کرنے کا کوئی تیسرا راستہ نہیں ہے۔

جنرل صاحب نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم اور روزگار دو بنیادی ضروریات ہیں اور ان دونوں اہداف کے حصول کے لیے خاطرخواہ کام ہو رہا ہے جس میں شمالی وزیرستان کے مستحق بچوں کے لیے 4 ہاسٹلز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے.

اس پراجیکٹ کی لاگت دس کروڑ روپے تھی، ان ہاسٹلز میں تقریباً 500 بچوں کے رہنے کا انتظام ہو گا میران شاہ کا ہاسٹل 15 اکتوبر سے فعال ہو جائے گا.

اسکے علاوہ یہاں کے نوجوانوں اور خواتین کو ہنر دینے کے لیے WITE اور WVTC کا قیام عمل میں لایا گیا، جن میں طلبہ و طالبات کو ماہانہ وظیفے کے ساتھ ساتھ سرٹیفکیٹ بھی دیے گئے.

رپورٹس کے مطابق یہاں کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیوں میں بھی بھیجا جا رہا ہے.

جنرل صاحب نے کہا کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ یہاں کے لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کے لیے بھی خاطر خواہ اقدامات کئے جا رہے ہیں کیونکہ جب انسان کا پیٹ بھرا ہو تو پھر وہ برائی کی طرف نہیں جاتا.

جنرل صاحب نے مشران سے کہا کہ آپ ہمیں زمین کی نشاندہی کر دیں ہم آپکو اس پر مکمل باغات لگا کر دیں گے جس سے آپکے لوگوں کو روزگار ملے گا، مزید برآں پاک افغان بارڈر غلام خان سے ٹرکوں کی آمدورفت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اس سے 12000 سے زائد لوگوں کو روزگار ملا ہے.

‎شیوا میں گیس دریافت ہوئی ہے جس میں بھر پور کوشش کی جا رہی ہے کہ اس پہ پہلا حق وزیرستان کی عوام کا ہو۔

بانڈہ پل جو چھ سال سے سیاست کا شکار تھا اس پر تیزی سے کام جاری ہے اور جلد ہی مکمل ہو جائے گا، ہمزونی پل کی منظوری ہو گئ ہے جلد اس پر کام شروع ہو جائے گا۔

انہوں نے حالیہ دھرنوں سے ہونے والے معاشی نقصانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج اور دھرنا آپکا حق ہے لیکن کسی اور کے سیاسی مقاصد کیلئے خود کو نہ استعمال ہونے دیں.

انہوں نے کہا کہ آپکے مسائل باہر سے آکے کسی نے خود حل نہیں کرنے بلکہ ہم سب نے مل کر کرنے ہیں اس لیے اپنے مسائل ہمیں بتائیں۔

جنرل صاحب نے خیر کلی مدرسے کے لیے 5 لاکھ اور درپہ خیل مسجد کے لیے 10 لاکھ روپے فوری دینے کا اعلان کیا جبکہ دڑپہ خیل قبیلے کو یقین دہانی کرائی کہ انکا متنازعہ زمین کا مسئلہ بہت جلد حل کریں گے۔

‎آخر میں جنرل صاحب نے دونوں جرگوں سے کہا کہ وہ اپنے نمائندوں کی ایک کمیٹی تشکیل دیں جو انکے مسائل آگے تک پہنچاۓ تاکہ انکو فوری طور پر حل کیا جائے۔