’کسی بھی پاکستانی وفد کے دورہِ اسرائیل کو مسترد کرتے ہیں‘

دفترخارجہ نے پاکستانی وفد کے دورہ اسرائیل کے حوالے سے زیرگردش رپورٹس کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس حوالے سے ملک کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ترجمان دفترخارجہ عاصم افتخار نے بیان میں کہا کہ ‘مذکورہ دورے کا اہتمام ایک غیر ملکی این جی او نے کیا تھا، جو پاکستانی نہیں ہے’۔

دفترخارجہ کی جانب وضاحتی بیان سے قبل غیرملکی میڈیا رپورٹس آئی تھیں کہ سابق حکومتی وزیر سمیت ایک ‘پاکستانی وفد’ نے یروشلم میں اسرائیلی وزیر خارجہ سے ملاقات کی ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ‘دورے کے منتظم نے کہا کہ وفد میں امریکی مسلم اور املٹی فیتھ ویمنز امپاورمنٹ کونسل اور ابراہم معاہدے کے بعد امریکا میں تشکیل پانے والا غیرحکومتی گروپ شراکہ کے نمائندے شامل تھے’۔

ابراہم معاہدہ 2020 میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں 4 عرب ریاستوں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات قائم کرنے کے لیے تشکیل پایا تھا۔

رپورٹ میں وفد کے سربراہ نسیم اشرف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ وفد کے ‘بین العقائد ہم آہنگی کے فروغ’ کے لیے یروشلم کا دورہ کیا تھا۔۔

مزید بتایا گیا تھا کہ ‘انہوں نے وفد کے دیگر اراکین سے متعلق مزید تفصیلات سے آگاہ کرنے سے گریز کیا’، نسیم اشرف پاکستان کے وفاقی وزیر اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین بھی رہے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اسی لیے سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور پاکستان ہمیشہ سے فلسطین کی ہر سطح پر حمایت کرتا ہے۔

ابراہم معاہدے کے بعد بھی پاکستان نے واضح کیا تھا کہ پاکستان اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک ‘فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہوجاتا’۔

ترجمان دفترخارجہ نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ ‘مسئلہ فلسطین پر پاکستان کا مؤقف واضح اور غیر مبہم ہے، ہماری مکمل قومی اتفاق رائے کی حامل پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی’۔

انہوں نے کہا کہ ‘پاکستان فلسطین کے عوام کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کی مستقل حمایت کرتا ہے’۔

ترجمان نے کہا کہ ‘اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے ساتھ ایک آزاد، قابل عمل اور برابری پر فلسطینی ریاست کا قیام جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو، جو خطے میں منصفانہ اور دیرپا امن کے لیے ناگزیر ہے’۔

قبل ازیں رواں برس کے شروع میں بھی ایک تنازع اس وقت کھڑا ہوا تھا جب بیرون ملک مقیم متعدد پاکستانی اور شہریوں نے ایک وفد کے ساتھ اسرائیل کا دورہ کیا تھا۔

اس دورے کا انتظام بھی مذکورہ این جی او نے کیا تھا اور منتظمہ انیلہ علی نے ڈان کو بتایا تھا کہ انہوں نے وفد کے ایک رکن کے لیے اس وقت کی پی ٹی آئی حکومت سے بحیثیت پاکستانی شہری اسرائیل جانے کے لیے خصوصی اجازت لے لی تھی۔

انہوں نے کہا تھا کہ انہوں یقین دلایا تھا کہ انہیں اسرائیل کا دورہ کرنے پر نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔

پاکستانی وفد کے دورے سے متعلق حالیہ رپورٹس پر سابق وزیراعظم عمران خان سمیت مختلف حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کی گئی تھی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سربراہی میں قائم وفاقی حکومت سے وضاحت طلب کی گئی تھی کہ آیا وفد کے دورے کی حمایت کی تھی یا نہیں۔

اس تنازع پر پارلیمنٹ، پریس کانفرنسز اور عوامی جلسوں میں بھی شد ومد کے ساتھ بحث کی گئی اور وفد کے دورہ اسرائیل کے حوالے سے حکومت کردار پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔

جماعت اسلامی کے سینیٹر ایوان بالا میں مطالبہ کیا تھا کہ اسرائیل کا دورہ کرنے والے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی شہریت منسوخ کردی جائے اور سہولت فراہم کرنے والی این جی اوز پر پابندی عائد کی جائے۔