شمالی وزیرستان : اتمانزئ کے ملکان و مشاران کا سول و عسکری قیادت کے ساتھ اہم جرگہ

شمالی وزیرستان کے مسائل کو حل کرنے کی خاطر جی او سی شمالی وزیرستان میجر جنرل محمد نعیم اختر کی زیرِ صدارت آج ایک اہم جرگہ منعقد ہوا جس میں شمالی وزیرستان کے تمام ملکان و مشاران کو ظہرانے پر مدعو کیا گیاجس میں سول انتظامیہ بشمول ڈی سی اور ڈی پی او نے بھی شرکت کی.

میجر جنرل محمد نعیم اختر نے ملکان سے مخاطب ہو کر کہا کہ وزیرستان کی سر زمین میں امن ریاستی مشینری اور عوام کے یکجا ہو کر کام کرنے میں ممکن ہے.

انہوں نے کہا کہ وزیرستان کی عوام کی فلاح و بہبود اور بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئے دو اہم اہداف کا حصول لازم ہے، جن میں تعلیم اور روزگار شامل ہیں. ان دونوں اہداف کے حصول کے لیے خاطرخواہ کام ہو رہا ہے.

تعلیم

میجر جنرل محمد نعیم اختر نے بتایا کہ وزیرستان کے 400 بچوں کو تعلیم کے حصول کیلئے ملک بھر میں اے پی ایس سکولز میں بھیجا گیا ہے.

اس کے علاوہ شمالی وزیرستان میں 4 ہاسٹلز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس میں مستحق بچوں کو مفت رہائش، کھانا اور تعلیم دی جائے گی. ان ہاسٹلز میں تقریباً 500 بچوں کے رہنے کا انتظام ہو گا.

انہوں نے مزید کہا کہا کہ دتہ خیل میں سکول کا قیام، بویا میں ایک سکول کی منظوری،WITE نورک اور WVTC میران شاہ میں ووکیشنل ٹریننگ بھی انہی پراجیکٹس کی ایک اہم کڑی ہے.

روزگار کے مواقع

میجر جنرل محمد نعیم اختر نے کہا کہ غلام خان سے جہاں 100 گاڑیاں گزرتی تھیں اب 400 گزرتی ہیں، اب آگے غلام خان سے لیکر میر علی تک منڈیوں کا قیام ہوگا.

انہوں نے کہا کہ شیوا میں گیس دریافت ہوئی ہے جس میں عوام کی فلاح کے لیے SNGPL اور MPCL سے مذاکرات ہو رہے ہیں کہ اس پہ پہلا حق وزیرستان کی عوام کا ہے.

انہوں نے مزید بتایا کہ منظر خیل میں ایک بہت بڑا پراجیکٹ شروع ہوا ہے جس میں قوم کا اچھا خاصہ حصہ منظور ہو گیا ہے جبکہ بانڈہ پل اور میر علی سے غلام خان بائ پاس اہم ترقیاتی منصوبے ہیں.

مزید برآں TESCO سے کامیاب مذاکرات ہوئے ہیں اور جلد بجلی کے شیڈول میں بہتری آئے گی.

انہوں نے حالیہ دھرنوں سے ہونے والے معاشی نقصانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج اور دھرنا آپکا حق ہے لیکن کسی اور کے سیاسی مقاصد کیلئے خود کو نہ استعمال ہونے دیں.

آخر میں میجر جنرل محمد نعیم اختر نے کہا کہ ریاست پرانے مجرموں کو معاف کر دے گی اور وہ پر امن طریقے سے واپس آئیں اور عام شہری کی طرح سکون سے زندگی گزاریں لیکن اگر وہ لوگ ہتھیار لانا چاہتے ہیں تو پھر ریاست بھی اپنا راستہ لے گی.

انہوں نے کہا کہ ایک خراب مچھلی پورے جل کو گندا کرتی ہے اس لیے وزیرستان کی عوام سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایسے شرپسندوں کے سہولت کار نہیں بنیں گے اور وزیرستان اور پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے.