پاکستان میں امن و امان کیلئے کون، کہاں اور کیا کردار ادا کرسکتا ہے؟؟

عبداللہ جان صابر

اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے مشران کا آپس میں ایک گہرا تعلق رہا ہےتحریک طالبان پاکستان کے بیت اللہ محسود، حکیم اللہ محسود، مفتی نیک محمد، مولوی فقیر اور عبداللہ محسود نے افغان طالبان کے ملا محمد عمر کے ہاتھوں بیعت کررکھی تھی۔اسکے علاوہ افغانستان میں طالبان کی طرف سے پہلے تین خودکش دھماکے بھی ٹی ٹی پی کے اہلکاروں نے کئے تھے جنکا تعلق وزیرستان سے تھا۔اسی طرح خوست میں سی آئی اے کے مرکز پر تاریخی حملے کا ماسٹر مائنڈ بھی ٹی ٹی پی کمانڈر حکیم اللہ محسود تھا۔

افغان طالبان اور ٹی ٹی پی میں جو واضح فرق تھا وہ انکی آپریشنل سرگرمیوں کا تھا۔افغان طالبان امریکہ کے خلاف لڑتے رہے جبکہ ٹی ٹی پی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے خلاف جنگ کررہی تھی جس کے خلاف جیئد علمإ کرام نے فتوے دیئے تھے کہ ٹی ٹی پی کی تمام تر سرگرمیاں غیراسلامی اور غیر انسانی ہیں۔یہی ایک وجہ بنی جسکو بنیاد بناکر حکومت پاکستان اور ریاست نے ٹی ٹی پی کے خلاف بڑے بڑے فوجی آپریشنز کئے تاکہ ٹی ٹی پی کا خاتمہ ہو اور پورے پاکستان سمیت خیبرپختونخوا میں قیام امن کو یقینی بنایا جائے۔

فوجی آپریشنز کے بعد کیا ہوا؟ کس کو کتنا نقصان اٹھانا پڑا؟ اور کون کہاں متاثر ہوا؟ یہ ایک لمبی چھوڑی بحث ہے لیکن آج کل ایک بار پھر یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ ٹی ٹی ٹی خیبرپختونخوا میں متحرک ہوچکی ہے اور یہ پیشن گوئیاں بھی ہورہی ہیں کہ خیبرپختونخوا میں بالخصوص ٢٠٠٨ سے ٢٠١٣ والے حالات بنیں گے۔جنگ کا راستہ روکنے اور مکمل امن و امان کے لئے کون کہاں اور کیا کردار اداکرسکتا ہے؟؟

افغان طالبان کا کردار:

جب سے افغان طالبان نے افغانستان میں حکومت سنبھالی ہے تب سے پاکستان کے سیاسی اور عسکری مشران اس کوشش میں ہیں کہ پاکستان سمیت پوری دنیا مستحکم اور پرامن افغانستان میں اپنا کردار ادا کریں۔اس مقصد کیلئے نہ صرف پاکستان نے اپنے محدود وسائل میں افغان عوام کو مالی امداد فراہم کی ہے، خواہ وہ اقتصادیات کے شعبے میں ہو، صحت کے حوالے سے ہو، تعلیم یا قدرتی آفات میں امداد کی صورت میں ہو حتیٰ کہ پاکستان نے اقوام متحدہ میں افغانستان کیلئے آواز اٹھائی ہے۔چونکہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کا آپس میں ایک گہرا تعلق ہے لہذا پاکستان حکومت کیساتھ کئے گئے وعدوں کے مطابق افغان طالبان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کو پاکستان میں تخریب کاری سے روکے اور امن مذاکرات کی کامیابی کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائیں۔اگر افغان طالبان اس عمل میں سستی دکھائیں گے تو تاریخ گواہ ہےکہ جب بھی پاکستان میں دہشتگردی بڑھی ہے تو اس کا براہ راست اثر افغانستان پر بھی ہوا ہے اور یہی نتائج افغانستان میں بدامنی کے بھی نکلے ہیں لہذا پاکستان کیساتھ مشاورت کرکے افغان طالبان کو اپنا ٹھوس کردار ادا کرنا چاہیئے۔

پاکستانی پارلیمنٹ اور عوامی نمائندوں کا کردار:

چونکہ پاکستان میں پارلیمانی سیاست کا نظام رائج ہے جس میں پارلیمنٹیرین اسمبلی کے فلور پر عوامی مسائل کے حل کیلئے قانون سازی کرتے رہتے ہیں تاکہ اپنی عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہم یقینی بناسکے۔ان بنیادی ضروریات میں امن و امان سرفہرست ہے، لہذا جس طرح پاکستان کے سیاستدان اپنی کرسی بچانے کیلئے ہرپلیٹ فارم پر عوام کو کھڑا کردیتے ہیں اور حکومت کے وسائل پر جلسے جلوس کرتے رہتے ہیں بالکل اسی طرح سیاستدان امن و امان کیلئے بھی ایک منظم پالیسی اپنائیں۔

تمام سیاسی جماعتوں کو بلا تفریق اس مقصد کیلئے متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ سیکیورٹی اداروں کیساتھ ملکر شدت پسندی کے خاتمے کیلئے پارلیمان سے کوئی قرارداد پاس کروائیں اور پھر اسکو عملی جامہ پہنانے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائیں کیونکہ اگر سیاسی مشران صرف تنقید کرتے رہیں گے اور امن مذاکرات کی کامیابی اور ناکامی ایک دوسرے پر ڈالیں گے تو پھر امن کا قیام ایک خواب ہی رہ جائیگا۔اگر قرارداد ممکن نہیں ہوتی تو پھر ایک مشترکہ کمیٹی بنائی جائے جس میں سیاسی مشران سمیت تمام سٹیک ہولڈرز موجود ہوں، لیکن کوئی بھی کریڈٹ کی بات نہ کرے اور نہ اس کمیٹی کو سیاسی بنائے۔اگر سیاستدان ایسا نہیں کرسکتے یا کرنا نہیں چاہتے تو پھر ان سیاستدانوں کا یہ حق بھی نہیں بنتا کہ وہ اپنے جلسوں میں یا اسمبلی فلور پر امن مذاکرات یا فوجی آپریشنز پر تنقید کریں۔

عوام کا کردار:

خیبرپختونخوا اور سابقہ فاٹا کی عوام نے ماضی میں سیکیورٹی اداروں کیساتھ ملکر بے پناہ قربانیاں دی ہیں تاکہ امن کا قیام ممکن ہوجاٸے۔عوام نے جانی و مالی نقصانات اٹھائے ہیں۔عوام ( جن میں سیاسی ورکرز اور سیاستدان بھی شامل ہیں) اور سیکیورٹی اداروں کی ان قربانیوں کے بعد پورے ملک کو امن کے ثمرات مل گئے ہیں۔ لیکن اب سوات اور قبائلی اضلاع میں بعض واقعات کیوجہ سے کسی حد تک امن و امان کو نقصان پہنچا ہے۔یہاں عوام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ کسی بھی مشکوک شخص یا مشکوک سرگرمی کی اطلاع سیکیورٹی اداروں کو دیں، کسی بھی دہشتگرد کو پناہ دینے سے گریز کریں، کسی بھی خوف یا دھمکی کیوجہ سے اپنے گھر بار چھوڑنے سے انکار کریں اور اگر ان علاقوں میں سیکیورٹی ادارے کوئی فوجی آپریشن کرنا چاہتے ہیں تو اسکو سپورٹ کریں۔ کیونکہ عوامی حمایت کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں ہے۔

چونکہ جنگ میں شامل تمام فریقین کو جانی و مالی نقصان اٹھانا ہوتا ہے اور ساتھ ساتھ معصوم عوام بھی شہید ہوجاتے ہیں لہذا ٹی ٹی پی کے مشران کو بھی اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اپنے بچوں اور خاندانوں کی خاطر جنگ و جدال سے گریز کریں اور پرامن پاکستانی بننے کیلئے پاکستان کے آئین و قانون کا احترام کریں۔ کیونکہ جنگ میں کسی کا فائدہ نہیں ہوگا۔ٹی ٹی پی کو افغان طالبان سے بھی سیکھنےکی ضرورت ہے کہ کسطرح انہوں نے تمام لوگوں کیلئے عام معافی کا اعلان کردیا اور امریکہ کیساتھ بہتر تعلقات کیلئے اقدامات کررہے ہیں۔ چونکہ افغان طالبان کو معلوم ہے کہ دنیا کیساتھ چلنے میں ہی ملک و قوم کا فائدہ ہے۔اسلام بھی ہمیں امن اور درگزر کا درس دیتا ہے اور بے گناہ انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل سمجھا جاتا ہے لہذا اللہ تعالی کے ہاں امن اور صلح ایک محبوب عمل ہے۔