کمانڈنٹ ایف سی سکاٶٹس کیمپ کی سربراہی میں قومی امن جرگہ

جنوبی وزیرستان اعظم ورسک میں کمانڈنٹ ایف سی کی سرابراہی حسب روایت قومی امن جرگے کا انعقاد کیا گیا۔ جرگے میں علاقے کے مشران ،علماء کرام نے شرکت کی اور کھانے پینے کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔

مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ جرگے میں سیاسی اور سماجی شخصیات کی نمائندگی کی کمی محسوس کی گئی۔

امن وامان کو برقرار رکھنے اور علاقائی مشکلات میں کمی لانے کے مقاصد کی حصول کیلیے ھونے والے اسی طرح کے جرگوں میں سیاسی اور سماجی شخصیات کا شریک ھونا بہت اہم سمجھا جاتاھے

دیر پا ،مٶثر اور خاطر خواہ نتائج کے حصول کیلیے جرگوں میں تمام مکاتب فکر کے لوگوں کی شرکت اور ان کی رائے لینا بہت اھم سمجھا جاتاھے۔ ھم آہنگی کے بغیر علاقے میں امن قائم کرنا ناممکن سمجھا جاتاھے۔

جرگے میں من وامان کو براقرار رکھنے اور بدامنی کے واقعات کی رکتام کیلیے مٶثر حکمت عملی پر بات چیت ھوئی جبکہ کمانڈنٹ نے قومی مشران پر زور دیا کہ علاقے میں امن وامان کو برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

ذرائع کے مطابق کمانڈنٹ نے بتایا کہ امن وامان کو برقرار رکھنے کیلیے قومی جرگے بنائیں۔جس پر جرگے میں شریک قومی مشران نے بتایا کہ ھم احمد زئی وزیر کے تمام اقوام کے ساتھ بات کریں گے۔اگر وہ قومی جرگے بنانے پر راضی ھوگئے تو اعظم ورسک کے لوگ بھی تیار ھے۔

واضح رھے کل کور کمانڈر پشاور نے سوات کے لوگوں کے ساتھ جرگے میں دو ٹوک الفاظ میں بتایا ھے کہ امن کو خراب کرنے والوں کے خلاف بھر پور کاروائی کی جائے گی

کورکمانڈر نے جرگے کو یہ بھی بتایا کہ مذاکرات کرنے کا مطلب قطعاًیہ نہیں ھے کہ لوگ حکومتی رٹ کو چینج کرنا شروع کریں۔ کور کمانڈر نے بتایا کہ آرمی چیف کے واضح ہدایات ھے کہ من وامان کو برقرار رکھنے کیلیے تمام تر وسائل کو بروئے کار لایا جائے۔