باجوڑ : گرینڈ جرگہ کا امن کیلئے مشترکہ جدو جہد جاری رکھنے پر اتفاق

باجوڑ کے ترکھانی و اتمان خیل قبائل کے مشران کا گرینڈ جرگہ ، امن کیلئے مشترکہ جدو جہد جاری رکھنے پر اتفاق۔

باجوڑ کے ترکھانی و اتمانخیل قبائل کا گرینڈ جرگہ باجوڑ سکاؤٹس ہیڈکوارٹر خار میں منعقد ہوا۔

جرگے میں باجوڑ سکاؤٹس کے بریگیڈیئر راؤ عمران ، ڈپٹی کمشنر باجوڑ فہد وزیر ، ڈی پی او باجوڑ عبدالصمد خان ، سرکاری آفیسران ، قبائلی مشران ، سیاسی رہنماوں ، تاجر برادری اور مختلف مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے مشران نے شرکت کی۔

جرگے سے خطاب کرتے ہوئے بریگیڈیئر راؤ عمران نے کہا کہ امن کے قیام کیلئے ہماری کوشش بھرپور طریقے سے جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کچھ کمی بیشی ضرور ہے لیکن اس کو ختم کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے لیکن بحیثیت معاشرہ ہماری جو مشترکہ ذمہ داری ہے اس کو پوری کرنا ہوگی ۔

انھوں نے کہا کہ یہاں کے مشران اور عوام نے حکومتی رٹ کی بحالی اور امن کے لئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں لیکن امن برقرار رکھنے کیلئے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا اور مشترکہ ذمہ داری پوری کرنی ہوگی۔ ب

انہوں نے کہا کہ بھتہ خوروں کیخلاف پولیس ، انٹیلی جنس ادارے اور ہمارے ٹیمیں پیچھے پڑی ہیں اور بہت جلد قلع قمع کرینگے ۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر فہد وزیر نے کہا کہ باجوڑ میں 80 فیصد امن قائم ہے جو کمی ہے وہ عوام کے تعاون سے پورا کرینگے۔

انہوں نے کہا کہ مکھئی کے فصل کیوجہ سے عسکریت پسند فائدہ اٹھاتے ہیں اور یہ بھی بہت جلد ختم ہوگا ۔ ڈی پی او باجوڑ عبدالصمد خان نے کہا کہ بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ ایک چیلنج ہے لیکن جب سے ہم نے گشتیں شروع کردی ہیں تو رواں ماہ ٹارگٹ کلنگ کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا ہے اور یہ ہماری آپریشنز کا نتیجہ ہے۔

ڈی پی او نے کہا کہ بھتہ خوروں کیخلاف اب ایف آئی آر درج کرینگے اور جس کو بھی بھتہ خوری کیلئے کال آئے تو ہمیں مطلع کریں ۔

انہوں نے کہا کہ عوام کے تعاون کے بغیر امن کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔ جرگے سے قبائلی مشران ملک شاہین ، اورنگزیب انقلابی ، ملک گل محمود خان ، مولانا گلداد خان ، مولانا ذاکر اللہ اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

مشران نے کہا کہ امن کیلئے ہمارے مشران نے اپنے جانوں کی نذرانے پیش کی ہیں اور امن کو بحال کیا تھا اور آئندہ بھی کسی قسم کے قربانی سے دریغ نہیں کرینگے لیکن ہمارے قربانیوں کونظر انداز نہ کیا جائے ۔ اپنے ملک کیلئے قبائلی عمائدین نے بے پناہ قربانیاں دی ہے ۔ اب ہمیں دیوار سے نہ لگایا جائے۔

انہوں نے کہاامن کے خاطر ہم نے اپنے جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔ مگر انضمام کے بعد ہمارے قربانیوں کو یکسر نظرانداز کیا جارہا ہے ۔ مختلف حیلوں بہانوں سے ہمیں تنگ کیا جا رہا ہے ۔

انہوں نے کہا قبائلی مشران کو امن کے خاطر قربانیاں دینے کے پاداش میں شدید سیکورٹی خطرات درپیش ہے ۔ لہذا ایسے موقع پر ان سے ان کے سیکورٹی پر مامور پولیس اہلکار واپس لینا انہیں مزید خطرات میں ڈالنے کے مترادف ہیں ۔