خیبر پختونخوا میں سیلاب سے 25 ہزار حاملہ خواتین متاثر

خیبر پختونخوا میں سیلاب کے باعث 25 ہزار حاملہ خواتین متاثر ہوئیں، جن کیلئے سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں 300 سے زائد زچہ و بچہ میڈیکل کیمپس قائم کیے جاچکے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں سیلاب سے جہاں عام افراد متاثر ہوئے وہیں لاکھوں حاملہ خواتین بھی مشکلات کا شکار ہیں جو سیلاب سے بچ گئیں مگر سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔

حفظان صحت نہ ہونے کی وجہ سے زچہ و بچہ دونوں کی زندگیوں کو خطرہ ہے جس کے سدباب کےلیے خیبرپختونخوا حکومت سے 300 سے زائد زچہ و بچہ کیمپس قائم کردئیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق صرف خیبرپختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں 25 ہزار حاملہ خواتین متاثر ہوئی ہیں، جن کیلئے حکومت کی جانب سے 13 اضلاع میں زچہ و بچہ کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔

زچہ بچہ میڈیکل کیمپس کیلئے نیو برن اور سیفٹی کٹس مہیا کی گئی ہیں، اب تک پندرہ ہزار حاملہ خواتین کی اسکریننگ کی گئی ہے۔

سیلاب سے متاثرہ خاندانوں میں 20 ہزار زچگیاں متوقع ہیں، متاثرین میں زچہ و بچہ کیسز کی مانیٹرنگ اور رپورٹنگ کیلئے لیڈی ہیلتھ ورکرز کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہے۔

خیبر پختونخوا میں سیلاب زدہ اضلاع میں 25 ہزار حاملہ خواتین متاثر ہوئی ہیں۔ حاملہ خواتین کے لئے 13 اضلاع میں زچہ و بچہ میڈیکل کمپلیکس جاری ہیں۔

محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے مطابق ان سیلاب زدہ اضلاع میں 300 سے زائد زچہ بچہ میڈیکل کیمپس لگائے جاچکے ہیں۔ زچہ بچہ میڈیکل کیمپس کیلئے نیو برن اور سیفٹی کٹس مہیا کی گئی ہیں۔ اب تک پندرہ ہزار حاملہ خواتین کی سکریننگ کی گئی ہے۔