پشاور, لکی مروت اور کراچی میں میں سی ٹی ڈی کی کارروائی

لکی مروت کے علاقے تختی خیل میں پولیس، سی ٹی ڈی اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے مشترکہ کارروائی میں 4 دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔

ترجمان پولیس کے مطابق چاروں دہشت گرد سکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوئے تاہم دہشتگردوں کی شناخت اب تک ممکن نہیں ہو سکی ہے، ہلاک دہشتگردوں کی لاشوں کو ضابطے کی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر مزید دہشتگردوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دسرے جانب دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری،خطرناک مطلوب دہشت گرد گرفتارسی ٹی ڈی کی وفاقی حساس ادارے کے ہمراہ اٹک چوک میٹرول میں کارروائی ہوئی ہے جس میں کالعدم تحریک طالبان کا مبینہ دہشت گرد محمد شاہ عرف ڈنگ گرفتار کرلیا گیا ہے

پولیس کے مطابق گرفتار دہشتگرد سی ٹی ڈی پشاور کو انتہائی مطلوب تھا،دہشتگرد شہر قائد میں اپنا نیٹ ورک بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے،وفاقی حساس ادارے اور سی ٹی ڈی نے خفیہ اطلاع پر ملزم کو گرفتار کیا،گرفتار ملزم کے قبضے سے ایک پستول اور گولیاں برآمد ہوئی ہیں‌

ملزم محمد شاہ عرف ڈنگ عسکری تربیت یافتہ ہے،گرفتار دہشتگرد کا تعلق ٹی ٹی پی طارق گیدڑ گروپ سے ہے،گرفتار دہشتگرد نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ رمضان میں ازاخیل ڈیم درآدم پرمامورایف سی کی چوکی پر راکٹ لانچروں اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا.

پولیس کے مطابق 27جولائی2022کو شیخان نالہ چوک ایریا تھانہ متلی کے قریب پولیس جوانوں پر حملہ کیا

حملے میں دو پولیس اہلکار جان علی اور شیر اکبر شہید ہوئے،گرفتار دہشتگرد متعدد مقدمے میں نامزد ملزم ہے،محمد شاہ عرف ڈنگ درہ آدم خیل کے مختلف علاقوں سے بھتہ وصولی میں بھی ملوث ہے

دوسری طرف قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی میں 2 عسکریت پسندوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جن کا تعلق کالعدم عسکریت پسند گروپ القاعدہ برصغیر (اے کیو آئی ایس) اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے ہے۔

ترجمان نے جاری بیان میں بتایا کہ ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس سپر مارکیٹ تھانے نے وفاقی حساس ادارے کے تعاون سے کارروائی کرتے ہوئے کالعدم عسکریت پسند گروپ القاعدہ برصغیر (اے کیو آئی ایس) کے کارندے صہیب طارق عرف عثمان ولد محمد طارق خان کو گرفتار کیا جو کہ شہر کراچی میں روپوش تھا۔

ترجمان ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس نے بتایا کہ مذکورہ عسکریت پسند نے دورانِ تفتیش انکشاف کیا کہ وہ 2019 میں طلحہ نامی شخص کے تعاون سے افغانستان برامچہ میں واقع عسکریت پسند گروپ القاعدہ برصغیر کے کیمپ انچارج قاری عبداللہ سے رابطہ استوار کیا جس کے بعد ملزم براستہ دلبدین افغانستان برامچہ پہنچا، جہاں اس نے ایک ماہ کی عسکری ٹریننگ حاصل کی۔

ملزم نے بتایا کہ اس کی ملاقات برامچہ میں 2 بھارتی شہریوں عبدالرحمن اور طہٰ سے بھی ہوئی، جن کا تعلق بھی اے کیو آئی ایس سے تھا۔

دوران تفتیش ملزم نے بتایا کہ ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد افغانستان میں موجود اے کیو آئی ایس کی لیڈر شپ کے ساتھ اس کا رابطہ بدستور برقرار رہا، ملزم بعدازاں عسکریت پسند گروپ القاعدہ برصغیر کے شعبہ نشرواشاعت کے ساتھ منسلک ہوگیا۔

پولیس کے مطابق پاکستان آنے کے بعد افغانستان میں موجود اے کیو آئی ایس کے اوطاق کا امیر قاری عبداللہ کو ملزم کالعدم القاعدہ کے سہ ماہی میگزین ‘نوائے غزوہِ ہند’ کے ساتھ اے کیو آئی ایس کے مرکزی رہنماؤں مولانا عاصم عمر، شیخ اسامہ محمود و دیگر کے کتابچے اور ان کی آڈیو و ویڈیوز تقاریر سمیت تنظیمی ہدایات اور میٹیریل ملزم کو ٹیلی گرام ایپ پر باقاعدہ شئیر کرتا تھا، جسے ملزم ٹیلی گرام اور واٹس ایپ کے مختلف گروپس میں بھیجتا تھا، ملزم مذکورہ تحریری و تقریری مواد کے ذریعے لوگوں کی ذہن سازی کرتا تھا اور لوگوں کو راغب کرتا تھا۔

اس نے مزید انکشاف کیا کہ وہ دیگر ساتھیوں محمد عرف رومان، ابوعروہ اور عبدالمنان جن کا تعلق بھی عسکریت پسند گروپ القاعدہ برصغیر سے تھا، وہ پہلے ہی گرفتار ہوچکے ہیں، جس کے بعد ملزم کراچی آکر روپوش ہو گیا تھا۔پولیس نے دعویٰ کیا کہ ملزم کے قبضے سے 1 پستول، 1 عدد دستی بم، 3 موبائل فون اور نقدی بھی برآمد کی گئی ہے، پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔