نیشنل فلڈ رسپانس میں متاثرین کی جلد از جلد آبادکاری کا فیصلہ

نیشنل فلڈ رسپانس سینٹر میں سیلاب متاثرین کی جلد از جلد آبادکاری کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نیشنل فلڈ رسپانس سینٹر کے حکام کا کہنا ہے کہ چھت سے محروم سیلاب متاثرین کو تیار گھر کی فراہمی پہلی ترجیح ہوگی۔

حکام کا کہنا ہے کہ مختلف ڈیزائنز پر کام شروع کردیا گیا ہے جبکہ متاثرہ علاقوں میں تفصیلی سروے جلد شروع کیا جائے گا۔ متاثرہ علاقوں میں پہلے سے تیار شدہ کم قیمت مکانات فراہم کرنے کے لیے مختلف تجاویز پر غور شروع کردیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد کو جلد از جلد ان کے گھروں میں منتقل کیا جانا ہماری اولین ترجیح ہے۔

عالمی ادارہ یونیسیف شمالی سندھ میں مزید 15 موبائل ہیلتھ کلینکس فعال کرے گا، ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ موبائل کلینکس صوبائی حکومت کے تعاون سے شروع کیے جا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق سیلاب زدہ علاقوں میں یونیسیف کے موبائل کلینکس کی تعداد 66 ہو جائے گی، اس سے قبل سیلاب زدہ علاقوں میں یونیسیف کے 51 موبائل ہیلتھ کلینکس کام کر رہے تھے۔ یونیسیف کے موبائل کلینکس صوبائی حکومتوں کے تعاون سے فعال ہیں، سندھ میں یونیسیف کے 18، کے پی میں بھی 18، جب کہ بلوچستان میں 15 موبائل ہیلتھ کلینکس فعال ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ موبائل کلینکس بڑھانے کا فیصلہ وبائی امراض کا پھیلاؤ بڑھنے پر ہوا، سندھ میں جلدی امراض، غذائی قلت، ڈائریا، اور ملیریا کے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔

دسری جانب ڈپٹی کمشنر ڈی آئی خان نصراللہ خان کی زیر صدارت ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے سرکاری انفراسٹرکچر اور ترقیاتی منصوبوں کی بحالی اور تعمیر نو کے حوالے سے ضلعی سطح کی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں بحالی اور تعمیر نو کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔

یاد رہے کہ ضلعی سطح کی کمیٹی کا یہ تیسرا اجلاس تھا۔ اس کے علاوہ ڈپٹی کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان نصراللّٰہ خان کی ہدایات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر پہاڑپور انیق انور نے کیچ سے ملحقہ تحصیل پہاڑ پور کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، اسسٹنٹ کمشنر پہاڑپور نے وہاں کے لوگوں کے نقصانات کا جائزہ لیا اور ان کے مسائل سنے۔