لاپتہ افراد کیسز کو حل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑوں گا، وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف عدالت میں کہا کہ لاپتہ افراد کیسز کو حل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑوں گا، یقین دلاتا ہوں میرے دائرہ اختیار میں جہاں تک ہے اپنی ذمہ داری پوری کروں گا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کی۔

وزیراعظم شہبازشریف عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا میری سب سے پہلے ذمہ داری ہے کہ عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کراؤ، میں نے سیلاب زدہ علاقوں کو دورے کئے اور ان سے ملاقاتیں کئے،میری ڈیوٹی اور بنیادی زمہ داری ہے کہ ان کی بات سنو اور حل کی کوشش کرو۔

شہبازشریف کا کہنا تھا کہ میں نہیں چاہتا کہ بلاوجہ کی ایکسکیوز سے بات گھماؤ،لاپتہ افراد کا یہ معاملہ تقریباً 20 سالوں سے آرہا ہے،میں اس چھوٹے بچے سے ملا جو میرے چہرے پر کہتا رہا کہ وزیراعظم میرے ابو کو مجھے بلاؤ ، چھوٹے بچے کا سوال روزانہ مجھے تکلیف دیتا ہے ، میری زمہ داری ہے کہ اس بچے کے والد کو ڈھونڈ لو۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں اس عدالت کو یقین دلاتا ہوں کہ میرے ڈومین میں جہاں تک ہے میں اپنی ڈیوٹی پوری کروں گا، میں اس عدالت کو اور میں پاکستان کے عوام کو جوابدہ ہو۔

انھوں نے بتایا کہ آج کل میں سیلاب کےمتاثرہ علاقوں کا دورہ کررہا ہوں، مجھے یہ آرڈر بتائے گئے تو میں نے حاضر ہوا ہوں ،میں Lame excuse کے پیچھے نہیں چھپوں گا۔

شہبازشریف نے کہا کہ کمیٹی چھ میٹنگز کر چکی ہے متعلق اتھارٹئز حکومتوں سے مل چکی ہے ، میں کمیٹی کی پرفارمنس دو ہفتے بعد خود دیکھوں گا ،چار سالوں میں دو مرتبہ جیل گیا، میرے اہلخانہ نے بھی اذیت دیکھی، ایک ماہ بعد میں رپورٹ جمع کرائیں گے جو صرف fiction نہیں ہو گی حقائق ہوں گے ۔

وزیراعظم نے عدالت کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا لاپتہ افراد کو اہلخانہ سے ملوں گا اور لاپتہ افراد کیسز کو حل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑوں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں اپنی عوام اور اللہ تعالیٰ کو جواب دہ ہوں، آپ جب بھی کہیں گے میں عدالت کے سامنے پیش ہو جاؤں گا ،میں جب وزیراعلی پنجاب تھا میں ایک Simple انسان تھا ، میں نے ہمیشہ بہتر سے بہتر کرنے کی کوشش کی، میں کوشش کروں گا کہ ان کے پیاروں کی تلاش کریں۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا آپ کا وقت بہت اہم ہے عدالت آپ کا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتی ، جس پر وزیراعظم نے کہا میں نےدن رات محنت کی لیکن پھربھی سزادی گئی ، میں بھی ہرتکلیف سےگزرا، یہ تو نہیں کہتا سارے لاپتہ افراد بازیاب ہوں گے لیکن کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔

عدالت نے حکومت کو لاپتہ افراد کیسز پر اقدامات کے لیے 2 ماہ کا وقت دے دیا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت کو لاپتہ افراد کیسز پر اقدامات کے لیے 2 ماہ کا وقت دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کی۔

وزیراعظم شہبازشریف عدالت میں پیش ہوئے ، شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کےسخت انتظامات کئے گئے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے اطراف تمام راستےبند ہے اور کمرہ عدالت میں غیر متعلقہ افراد کا بھی داخلہ بند ہے۔

دوران سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے وزیر اعظم کو روسٹرم پر بلایا، چیف جسٹس نے شہباز شریف سے مکالمے میں کہا کہ اس عدالت نے آپ کو تکلیف اسی لئے دی کیونکہ ایک بہت بڑامسئلہ ہے، یہ کیس بہت عرصے سے چلتا آرہاہے، آپ کو اس لیے عدالت آنے کی تکلیف دی کہ اس مسئلے کاحل نکالاجائے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ایک چیف ایگزیکٹو نے اپنی کتاب میں لکھا کہ لوگوں کو اٹھایا، یہ آئینی عدالت ہےاورسویلین بالادستی پر یقین رکھتی ہے، اسٹیٹ کے اندراسٹیٹ نہیں ہوسکتی۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اس عدالت نےاس معاملے کوکئی باروفاقی کابینہ کوبھیجا، آپ کو معاملہ بھیجاآپ نےکمیٹی بنائی، وزیر اعظم صاحب یہ معاملہ کمیٹی کا نہیں ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے اس سے بڑا ایشو اور کوئی نہیں ، سیاستدانوں نےملکراس مسئلے کا حل نکالناہے، اس عدالت نے مناسب سمجھا کہ آپ کو بتایا جائےکہ مسئلہ کیا ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کے لیے کمیشن بنا مگراس کاطریقہ کاربڑاپریشان کن ہے،لاپتہ افرادکمیشن کی سماعتوں سےان خاندانوں کےدکھوں میں اضافہ ہوا، ان لوگوں کوچاہیےتھا کہ ان میں سےکوئی اس عدالت نہ آتا، ریاست کی ذمہ داری ہےکہ وہ ہرایک کے گھر خود جاتے۔

چیف جسٹس نے مزید ریمارکس میں کہا کہ یہاں پر لوگ بازیاب ہوئے مگر کوئی ایکشن نہیں ہوا،میرے خیال میں اس سے بڑا کوئی بھی ایشونہیں ہے،جتنے نیشنل سیکیورٹی مسائل ہیں اتنے ہی ہر شہری کے ہیں، شہری یہ کیوں محسوس کرے کہ ریاست ہی تحفظ نہیں کررہی۔

جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ ایگزیکٹوکاکام ہے کہ شہریوں کاتحفظ یقینی بنائے، ٹارچر کی سب سے بڑی قسم شہریوں کا لاپتہ ہوناہے،یا تو آپ کو کہنا پڑے گا کہ آئین اپنی حالت میں بحال نہیں، اگر یہ بات ہے کہ تو پھر اس عدالت کو کسی اور کو بلانا پڑے گا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جبری گمشدگیاں آئین سےانحراف ہے، اس عدالت کو اچھا نہیں لگتا کہ منتخب وزیراعظم کو بلائے ، سیلاب کی تباہ کاریوں سےمتعلق کاموں میں آپ مصروف ہوں گے ، لیکن ان کا احتساب کیا جائے جو قانون سے بالاتر کام کرتے ہیں، گورننس کےمسائل تب حل ہونگےجب آئین اپنی حالت میں بحال ہو۔

وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ، اٹارنی جنرل بھی عدالت پیش ہوئے ،عدالت نے کہا کہ اس عدالت کا آپ پر اعتمادہےکہ آپ اس کاحل بتائیں، ایک چھوٹابچہ اس عدالت آتاہے، یہ عدالت اسے کیا دے، بدقسمتی سےاس بچے کو پچھلے وزیر اعظم کےپاس بھیجا مگر کچھ نہیں ہوا، وزیر اعظم صاحب آپ اس مسئلے کاحل بتائیں کہ یہ عدالت کیا کرے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا میری سب سے پہلے ذمہ داری ہے کہ عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کراؤ، میں نے سیلاب زدہ علاقوں کو دورے کئے اور ان سے ملاقاتیں کئے،میری ڈیوٹی اور بنیادی زمہ داری ہے کہ ان کی بات سنو اور حل کی کوشش کرو۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میں نہیں چاہتا کہ بلاوجہ کی ایکسکیوز سے بات گھماؤ،لاپتہ افراد کا یہ معاملہ تقریباً 20 سالوں سے آرہا ہے،میں اس چھوٹے بچے سے ملا جو میرے چہرے پر کہتا رہا کہ وزیراعظم میرے ابو کو مجھے بلاؤ ، چھوٹے بچے کا سوال روزانہ مجھے تکلیف دیتا ہے ، میری زمہ داری ہے کہ اس بچے کے والد کو ڈھونڈ لو۔

انھوں نے کہا کہ میں اس عدالت کو یقین دلاتا ہوں کہ میرے ڈومین میں جہاں تک ہے میں اپنی ڈیوٹی پوری کروں گا، میں اس عدالت کو اور میں پاکستان کے عوام کو جوابدہ ہو۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج کل میں سیلاب کےمتاثرہ علاقوں کا دورہ کررہا ہوں، مجھے یہ آرڈر بتائے گئے تو میں نے حاضر ہوا ہوں ،میں Lame excuse کے پیچھے نہیں چھپوں گا۔

انھوں نےمزید بتایا کہ کمیٹی چھ میٹنگز کر چکی ہے متعلق اتھارٹئز حکومتوں سے مل چکی ہے ، میں کمیٹی کی پرفارمنس دو ہفتے بعد خود دیکھوں گا ،چار سالوں میں دو مرتبہ جیل گیا، میرے اہلخانہ نے بھی اذیت دیکھی، ایک ماہ بعد میں رپورٹ جمع کرائیں گے جو صرف fiction نہیں ہو گی حقائق ہوں گے ۔

شہباز شریف کا عدالت میں کہنا تھا کہ میں یقین دہانی کراتا ہوں لاپتہ افراد کو اہلخانہ سے ملوں گا اور لاپتہ افراد کیسز کو حل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑوں گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں اپنی عوام اور اللہ تعالیٰ کو جواب دہ ہوں، آپ جب بھی کہیں گے میں عدالت کے سامنے پیش ہو جاؤں گا ،میں جب وزیراعلی پنجاب تھا میں ایک Simple انسان تھا ، میں نے ہمیشہ بہتر سے بہتر کرنے کی کوشش کی، میں کوشش کروں گا کہ ان کے پیاروں کی تلاش کریں۔

چیف جسٹس نے کہا آپ کا وقت بہت اہم ہے عدالت آپ کا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتی ، جس پر وزیراعظم نے کہا میں نےدن رات محنت کی لیکن پھربھی سزادی گئی ، میں بھی ہرتکلیف سےگزرا، یہ تونہیں کہتاسارےلاپتہ افرادبازیاب ہونگے لیکن کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔

عدالت کی اٹارنی جنرل کو آرٹیکل 7پڑھنے کی ہدایت کی ، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کمیٹیاں بنیں، بیانات دیےگئےلیکن یہ کافی نہیں ہے، کوئی بھی شخص اس عدالت سےاپروچ نہ کرےکہ اس کاپیارالاپتہ ہے، شہریوں کو لاپتہ کرنا آئین توڑنے کے مترادف ہے۔

جس پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جس نے لوگوں کو لاپتہ کرنا شروع کیا وہ آمرتھا، چیف جسٹس نے مزید کہا کہ صوبوں کے چیف ایگزیکٹوز بھی ذمہ دارہیں اگرانکےعلاقےسےکوئی اٹھایاجاتاہے، صوبےیامرکزجہاں سےکوئی لاپتہ ہو،چیف ایگزیکٹوذمہ دارہے۔

جسٹس اطہر من اللہ کا ریمارکس میں کہنا تھا کہ سول کنٹرول اور سول سپرمیسی پر عمل درآمد آپ کاکام ہے، اس عدالت کو اچھا نہیں لگتا کہ کسی کوبلاوجہ سمن کرے تو وزیراعظم نے کہا جی میں جانتاہوں اورمجھےاندازہ ہے آپ بلاوجہ کسی کونہیں بلاتے۔

عدالت نے کہا کہ اس عدالت کے فیصلے سے پہلے ایگزیکٹو نے اس بات کو یقینی بنانا ہوگی کہ کوئی لاپتہ افراد نہیں ہوں گے۔

وزیرداخلہ راناثنااللہ بھی عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا عدالت یقینی بنائےگی کہ آئین کی خلاف ورزی نہ ہو، اٹارنی جنرل اوردیگر کو سننے کے بعد ہم ججمنٹ دیں گے، جبری گمشدگی کوکسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، وگرنا پھر یہ عدالت چیف ایگزیکٹو کو ذمہ دار ٹھہرائے گی، اس ملک میں کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں۔

وفاقی وزیراعظم نذیر تارڑروسٹرم پرآگئے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے عدالت کےپاس کوئی راستہ نہیں کہ ہم کسی کوتلاش کریں، جن کی ذمہ داری ہےان کوذمہ دار ٹھہرائیں ، کسی شہری کوشک بھی نہیں ہوناچاہیےکہ ان کوکون اٹھاتاہے، آئین سپریم ہےاوراس پرعمل ہوگا۔

وزیر اعظم نے عدالت سے جانے کی اجازت مانگی ، جس پر اسلام آبادہائیکورٹ نےوزیر اعظم شہبازشریف کوجانے کی اجازت دے دی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہاں مسئلہ یہ ہےجو عہدوں پر بیٹھے ہیں کہتےہیں ہم نےکچھ نہیں کیا، اگر آپ مسئلہ حل نہیں کرسکتے تو پھر عہدہ چھوڑدیں، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا وزیر قانون ، وزیر داخلہ اور میں نے درددل کے ساتھ کام کیا ہے۔

وفاقی وزیرقانون نے عدالت کو بتایا کہ اس کا حل سیاسی ہی ہونا ہےگرینڈایجنڈا ہے ہم ہرہفتےمل رہےہیں ، 15دن پہلے کا پروگرام ہم نےدیا ہوا تھا اسی کے مطابق کل ملےہیں، اللہ معاف کرے جتنی بے توقیری اس ادارے کی گئی وہ نہیں ہونی چاہیے تھی۔

وفاقی وزیر قانون کا مزید کہنا تھا کہ یہ بیس 21سال کاکام ہےاستدعاکرونگاوقت لگےگا، اس کیس کو حل کرنے کے لئے ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، ہمیں یہ عدالت 2ماہ کا وقت دےتاکہ کام کرسکیں۔

عدالت نے کہا یہ عدالت آپ کےکام میں مداخلت نہیں کرےگی، جس پروزیر قانون نے کہا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ اس معاملےمیں کسی انجام تک پہنچ جائیں تو عدالت کا کہنا تھا کہ یہ عدالت ججمنٹ دےگی جو اس معاملے میں آپ کومدد فراہم کرے گی۔

اسلام آبادہائیکورٹ نے حکومت کو لاپتہ افراد کیسز پر اقدامات کے لیے 2 ماہ کا وقت دے دیا اور کیس کی سماعت 14 نومبر تک ملتوی کر دی۔