نوجوان نسل، دشمن کیلئے آسان ہدف کیوں؟

عبداللہ جان صابر

نوجوانوں کی مثال ایک ایسے برتن کی مانند ہوتی ہے جو بالکل خالی ہو اور پھر اس میں جو چیز بھی ڈالی جائے برتن اس سے بھر جاتا ہے۔ اسی طرح نوجوان کا ذہن بھی جوانی کے دہلیز پر پہنچنے تک بالکل خالی ہوتا ہے، اس میں جس طرح کے بھی خیالات ڈالے جاتے ہیں‘ ذہن انہیں قبول کرلیتا ہے اور پھر وہی اچھے یا برے خیالات اس کے دین، اخلاق و کردار اور معاشرتی ادب و آداب کی بہتری یا برائی کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔

وہ لوگ جو کسی ملک یا قوم کو برباد کرنا چاہتے ہواور انکا مقصد اس قوم پر غلبہ ہو تو وہ اپنی مکر و فریب، جھوٹ، بغاوت، غداری اور سازشوں کے ذریعے نوجوانوں کو اپنا خصوصی ہدف بناتے ہیں اور ان کے سامنے اپنے ملک، سیکیورٹی اداروں اور حکومت کی ایک ایسی جعلی اور حقیقت سے بہت دور تصویر پیش کرتے ہیں کہ نوجوان بغیر سوچے سمجھے اور اپنے انجام سے بے پرواہ ہو کر مقناطیسی کشش کی مانند ان کے پیچھے چلنا شروع کردیتے ہیں۔

نوجوانوں کی توانائی اور جوش کو دیکھتے ہوئے بیرونی قوتوں اور شرپسند عناصر نے بھی آج پاکستان کی نئی نسل کو اپنا ہدف بنایا ہوا ہے۔انکی کوشش ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے ان نوجوانوں کو اپنے ملک کے خلاف استعمال کریں۔اس مقصد کیلئے ڈیجیٹل میڈیا پر بھاری رقم بھی خرچ ہورہی ہے۔مذہب اور قوم پرستی کو بنیاد بناکر پاکستان دشمن عناصر سال ۲۰۰۵ سے اس منصوبے پر کام کررہے ہیں جنکے کچھ اثرات ظاہر بھی ہوچکے ہیں۔

سوشل میڈیا کے حوالے سے پاکستان میں نمایاں تبدیلی کا سال 2013 تھا، اس سال دہشت گرد تنظیموں اور کالعدم تنظیموں کی جانب سے سوشل میڈیا پروفائلز نے حکومت اور سکیورٹی اداروں کو دوہری مشکل میں مبتلا کردیا تھا۔ ان دنوں ملک ایک جانب تو فرقہ واریت، لسانیت اور ٹارگٹ کلنگ جیسے مسائل سے نبردآزما تھا تو دوسری جانب شدت پسند تنظیموں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی وجہ سے نوجوانوں کا مستقبل انتہا پسندی کی جانب جاتا دکھائی دے رہا تھا، جس کی فوری روک تھام ضروری تھی۔

ایک صحافی کی حیثیت سے مجھے اس بات پر فخر ہے کہ پاکستان کے نوجوان پہلے سے زیادہ باشعور اور ڈیجیٹل میڈیا کے استعمال سےباخبر ہیں لیکن انکو اپنی راہ کا تعین کرنا ضروری ہے۔اگر ڈیجیٹل میڈیا کے کسی پلیٹ فارم سے پاکستان یا ریاستی اداروں کے خلاف کوئی تضحیک آمیز یا جعلی خبریں نظر آتی ہیں تو اسکو کاونٹر کرنا نوجوان نسل سمیت ہر پاکستانی کی اخلاقی، قومی اور مذہبی ذمہ داری بنتی ہے کیونکہ اسلام بھی وطن سے محبت اور وفاداری کا درس دیتا ہے۔

یہاں حکومت کی بھی کچھ ذمہ داریاں بنتی ہیں کہ نوجوان نسل کو بےراہ روی سے بچانے کیلئے ڈیجیٹل میڈیا کے قوانین کو نافذ العمل کریں۔ایسا نہیں کہ ہمارے یہاں سائبر کرائم کا قانون نہیں ہے مگر بدقسمتی سے وہ نافذ العمل نہیں ہے ۔ کیا کبھی دیکھا گیا ہے کہ بیرون ممالک میں سی آئی اے یا ایم آئی فائیو کو تنقید کا نشانہ بنا یاگیا ہو۔؟ ہمارے پڑوس میں ہی دیکھ لیں کوئی بھی ‘را’ کے خلاف لب نہیں کھول سکتا ہے تو کیا یہ سب دودھ کی دھلی ہیں ؟ ہرگز نہیں،بلکہ ان ممالک میںقانون مستحکم ہے۔ اس لئے وہاں دفاعی اداروں کا احترام ہے اور ریاست انہیں ان اداروں کا احترام کرنے کا پابند کرتی ہے۔

کسی سیاسی جماعت یا مفاد پرست تحریکوں کا الہ کار بننے کی بجائے نئی نسل کو پاکستان کیلئے لڑنا چاہیئے کیونکہ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ایک تعلیم یافتہ نوجوان ہی ملک و قو م کی ترقی کا ضامن ہو سکتا ہے۔ایک تعلیم یافتہ اور با شعور انسان ہی ملکی باگ ڈور سنبھا ل سکتا ہے اور اس کی ڈوبتی ناؤ کو پار لگا سکتا ہے۔طلبہ کو چاہیے کہ وہ نہ صرف اچھے پاکستانی بنیں بلکہ ایک اچھے مسلمان ہونے کا بھی ثبوت دیں اور احکام اسلام کی پیروی کرتے ہوئے اس بات کا ثبوت دیں کہ:

ہم ہیں وطن عزیز کے ذروں کی حرمت کے رکھوالے
ہم ہیں حرف لاالہ کے ترجمان بے خطر