خیبر پختونخوا میں تباہ کن سیلاب کی صورتحال

ملک میں آنے والے حالیہ سیلاب کو تباہی کے لحاظ سے تاریخی قرار دیا جارہا ہے، مون سون بارشوں کے نتیجے میں آئے اس سیلاب نے آغاز میں صوبہ سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے جنوبی اضلاع کو متاثر کیا، بعدازاں تباہی کا یہ سلسلہ بڑھتا گیا اور اب صوبہ خیبر پختونخوا بھی اس ہولناک سیلاب سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔

میڈیا سے موصول ہونے والی سرکاری اطلاعات کے مطابق خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں اب تک بارشوں اور سیلاب سے 258 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ سینکڑوں لوگ زخمی ہوئے ہیں، علاوہ ازیں 14 ہزار سے زائد گھروں کو جزوی یا مکمل طور پر نقصان پہنچا ہے۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کے مطابق ضلع سوات میں دریا کے کنارے 61 ہوٹل سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں دریائے سوات، دریائے کابل اور دریائے سندھ میں پانی کی سطح بڑھ جانے کی وجہ سے سیلاب آیا، اس کے علاوہ بعض بالائی علاقے پہاڑیوں پر طغیانی اور ریلوں کیوجہ سے زیر آب آئے۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں سیلاب سے سوات، اپر دیر، کوہستان، شانگلہ، کالام، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، چترال، نوشہرہ، بونیر، چارسدہ اور مردان سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، ان متاثرین کو اب کیمپوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔

ماہرین ماحولیات سمجھتے ہیں کہ سیلاب کی تباہ کاری حکومت کی طرف سے پہلے سے موجود دریاؤں کے آس پاس آبادکاری پر عمل درآمد نہ کرنے کی وجہ سے ہوئی ہے، دریا کے کنارے غیر قانونی آبادکاری کے خلاف گذشتہ کچھ مہینوں سے خیبر پختونخوا حکومت نے بعض اقدامات بھی کئے تھے اور بعض مقامات پر تجاوزات کے خلاف آپریشن بھی کیا، تاہم بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت دریاؤں کی پروٹیکشن کے قانون پر عمل درآمد میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوئی ہے۔

اسی خدشے کا اظہار وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے گذشتہ دنوں سوات میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران بھی کیا تھا۔ محمود خان نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ہم نے تجاوزات کے خلاف کارروائیاں شروع کی تھیں تاہم لوگوں کی جانب سے تعاون نہیں کیا گیا۔

متاثرین سیلاب کیلئے پراونشل ڈیزاسٹرمینجمیٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے 99 کیمپس قائم کیے گئے ہیں، جن میں ضلع نوشہرہ میں 77 کیمپس قائم ہیں، جس میں 25000 افراد موجود ہیں، ڈی آئی خان میں 11 کیمپس قائم ییں، جن میں 25000 افراد موجود ہیں۔

اسی طرح دیر اپر میں سات، ملاکنڈ اور مانسہرہ میں دو، دو کیمپس قائم ہیں۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق کوہستان لوئر اور ٹانک کے لیے تین تین کروڑ، نوشہرہ اور چترال کے لیے دو دو کروڑ روپے جاری کیے گئے جبکہ ضلع شانگلہ کے لیے ایک کروڑ پچاس لاکھ، ضلع بونیر کے لیے ایک کروڑ، ضلع اپر دیر کے لیے 2 کروڑ، ملاکنڈ ایک کروڑ، ضلع سوات کے لیے دو کروڑ، لکی مروت کے لیے دو کروڑ پچاس لاکھ اور دیر لوئر کے دو کروڑ روپے جاری کر دیئے گئے ہیں۔ پی ڈی ایم اے نے جولائی سے اب تک مختلف اضلاع کی انتظامیہ کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 85 کروڑ روپے جاری کئے ہیں۔

میڈیا کے مطابق ان کیمپس میں متاثرین سیلاب کو اب بھی کئی مشکلات کا سامنا ہے، خوراک کی فراہمی، موسمی مسائل، خیموں کی کمی کی وجہ سے متاثرین کی بڑی تعداد نالاں ہے۔

اس کے علاوہ چارسدہ اور مردان میں متاثرین کی ایک بڑی تعداد نے پشاور، اسلام آباد موٹر وے پر ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں، گذشتہ شب جب ایک خاتون ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ان متاثرین کو وہاں سے ہٹانے کیلئے آئیں تو متاثرین بپھر گئے اور ان پر حملہ بھی کیا۔

ذرائع کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہزاروں افراد پیٹ، قے، دست اور آنکھوں سمیت مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوئے ہیں۔ اگر متاثرین کے صحت سے متعلق مسائل پر توجہ نہ دی گئی تو کوئی نیا المیہ درپیش آسکتا ہے۔

صوبائی و مرکزی حکومتوں کو اس نازک صورتحال میں تمام تر سیاسی مخالفتوں کو پس پشت ڈال کر متاثرین کو ریلیف کی فراہمی اور ان کی دوبارہ آبادکاری پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی، تاکہ اس قدرتی آزمائش سے مزید کوئی نقصانات کئے بغیر نکلا جاسکے۔