قبائلی اضلاع پاکستان مخالف عناصر کیلئے سافٹ کارنرز کیوں؟

عبداللہ جان صابر

خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع کو اگر جعرافیائی طور پر دیکھا جائے تو انکی مغربی سرحد افغانستان سے ملتی ہے جہاں ڈیورنڈ لائن انہیں افغانستان سے جدا کرتی ہے۔ قبائلی اضلاع کے مشرق میں پنجاب اور خیبرپختونخوا جبکہ جنوب میں صوبہ بلوچستان واقع ہے۔جعرافیہ کسی ملک یا علاقے کیلئے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس سے پڑوس میں موجود علاقوں یا ممالک میں مثبت یا منفی تبدیلیوں کا براہ راست اثر ہوتا ہے۔

قبائلی اضلاع کے مغرب میں واقع افغانستان میں پچھلے چالیس سال سے مختلف تبدیلیاں رونماں ہوئیں جنکا براہ راست اثر خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع پر پڑا اور پھر یہ اثر پورے پاکستان تک پھیلتا رہا۔جسکی وجہ سے پاکستان کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

افغانستان میں خانہ جنگی، سوویت یونین کی یلغار، امریکہ ، یورپ اور عرب ممالک کی دلچسپی کے بعد افغان مہاجرین بڑی تعداد میں ان قبائلی علاقوں میں داخل ہونے لگے۔ روس کی شکست، افغانوں کی اپنی حکومت، پھر طالبان کا ظہور۔ یہ سارے واقعات قبائلی علاقوں پر براہِ راست اثر انداز ہورہے تھے۔

جب قبائلی اضلاع میں افغانستان کے حالات کی وجہ سے انتشار پھیلنے لگا تو پاکستان مخالف عناصر نے موقعہ کو غنیمت سمجھا اور ان علاقوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے لگے۔مکمل تحقیق اور مطالعے کے بعد پاکستان دشمن عناصر کو قبائلی عوام کی دو کمزوریاں ہاتھ لگ گئیں۔ایک مذہب کیساتھ انتہائی لگاو اور دوسری قوم پرستی۔

دشمن نے سب سے پہلے مذہب کو استعمال کرنے کیلئے منصوبہ بندی کی کیونکہ پڑوسی ملک افغانستان میں بھی جہادی فلسفہ عام تھا جسکو کیش کرنا دشمن عناصر کیلئے زیادہ آسان تھا۔اس مقصد کیلئے جہاد کے نام پر عسکریت پسند تنظیمیں منظم کروائی گئی اور قبائلی عوام کو پیسوں اور جذبات کے ذریعے ان کا حصہ بنایا گیا۔

پچھلے بیس سال تک قبائلی اضلاع اور افغانستان سے پاکستان کے دیگر صوبوں کو نشانہ بیایا گیا،خود قبائلی عوام کو جانی و مالی نقصان کا سامنے کرنا پڑا اور وہ لوگ ائی ڈی پیز بھی بن گئے کیونکہ قبائلی عوام میں سے چند افراد جو عسکریت پسند گروہ کا حصہ تھے انکی وجہ سے دیگر قبائلی عوام نے بھی اذیت برداشت کی۔

جب پاک فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے قبائلی اضلاع میں دہشتگردوں کو شکست دے دی اور فوری طور پر دوبارہ بحالی کا عمل شروع کردیا تو ملک دشمن عناصر کی ساری محنت پانی میں بہہ گئی کیونکہ وہ پاکستان توڑنے کے ارادوں میں مکمل طور پر ناکام ہوگئے۔

اس ناکامی کے بعد اب پاکستان مخالف ممالک اور خفیہ اداروں نے ایک نئی منصوبہ بندی تیار کر رکھی ہے جس میں قوم پرستی کا ایلیمنٹ شامل کروایا گیا ہے۔قبائلی علاقوں میں امن اور ترقی کے دشمن اپنے ایجنٹوں کے ذریعے قبائلی عوام میں قوم پرستی کو ہوا دے رہے ہیں۔پشتون اور پنجابی کے نام پر نفرت پھیلانے کی کوشش ہورہی ہے۔اس مقصد کے لئے سلیپر سیلز قائم کئے گئے۔

ملک دشمن عناصر کے اس منصوبےمیں پاک فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں کو بدنام کرنے کا ایجنڈا بھی شامل ہے۔اس مشن پر باقاعدہ طور پر کام کا اغاز ہوچکا ہے جس کے تحت قبائلی اضلاع میں مختلف تنظیمیں اور تحریکیں متحرک ہوچکی ہیں جبکہ ڈیجیٹل میڈیا پر بھی مخصوص ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں تاکہ پراپیگنڈوں کے ذریعے منفی ذہن سازی کر سکیں۔

اگرسی ائی اے، راہ اور این ڈی ایس مسلسل اس کوشش میں رہتے ہیں کہ کسطرح قبائلی عوام کو استعمال کرکے پاکستان کو نشانہ بنائیں تو پھر قبائلی عوام کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ قوم پرستی کے نام پر جاری تحریکوں کا ادراک کریں،حقوق کے نام پردھوکہ دینے والوں کو پہچانیں کیونکہ یہ قبائلی عوام کی نئی نسل کے مستقبل کا سوال ہے