ادم خور بازار میران شاہ کو ادم خور بازار کیو کہا جاتا تھا

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

میران شاہ میں ادم خور بازار ایک ایسا تاریخی بازار تھا کہ جس کا نام سن کر دل دیکھنے کے لئے ضرور ترس جاتا تھا. اپریشن ضرب غضب کے دوران اس بازار کے بارے میں حکومتی سطح پر باقاعدہ خبر چلائی گئی کہ اس بازار کوادم خور بازار اس لئے کہاجاتا تھا کہ طالبان یہاں لوگوں کو لاکر ذبح کرتے تھے مگر حقیقت اس کے برعکس ہےطالبان نے ادم خور بازارمیں ایک مرغی کو بھی ذبح نہیں کیا تھا.

ادم خور بازار کو ادم خور بازار اس لئے کہا جاتا تھا کہ فقیر ایپی حاجی میرزالی خان نے جب شمالی وزیر ستان میں انگریزوں کے خلاف جہاد کا اعلان کیا تو حاجی میر زالی خان کے ساتھی جن کو شمالی وزیرستان میں حاجی صاحب غازیان کے نام سے جانے جاتے ہیں.

ان کے ساتھی جب بھی انگریزوں پر حملہ کرتے تو انگریزوں کو جنگ کے دوران ٹکڑے ٹکڑے کرتے تھے ایسا ہی ایک حملہ حاجی میرزالی خان کے غازیوں نے شودی خیل جارنیل کی سربراہی میں ادم خور بازار میران شاہ کے مقام پر کیا جس میں انگریزوں نےکافی جانی مالی نقصان اٹھایا اس وقت میران شاہ قلعہ سے ایک انگریز کرنل ایا اور اپنے سا تھیوں کی جب مسخ شدہ لاشیں دیکھی کہ کسی کاناک کاٹا ہوا ہے کسی کا سر اور کسی کے ہاتھ پاوں کاٹے گئے تھے تو اس کرنل نے یہاں اکر کہا کہ حاجی میر زالی خان کے ساتھی انسان نہیں بلکہ ادم خور ہے جو لوگوں کو کھاتے ہیں اس وجہ سے اس بازار کا نام ادم خور رکھا گیا تھا