ڈیرہ اسماعیل : پاک فوج کا ریلیف آپریشن جاری

ڈیرہ اسماعیل خان میں پاک فوج کی جانب سے سیلاب زدگان کا ریلیف آپریشن جاری ہے۔

پاک فوج ڈیرہ اسماعیل خان ٹاسک فورس کی جانب سے تحصیل کلاچی کے مختلف علاقوں میں اشیاء خوردونوش کے علاوہ ٹینٹ تقسیم کیے گئے.

مطابق ہیلی کاپٹر کی مدد سے ضلع ٹانک کے علاقے گرہ شاد، گرہ مٹہ، گرہ ممریز اور بارہ خیل میں سیکنڑوں خاندانوں کو راشن پہنچایا گیا جبکہ رمک پروہ کیچ اور گرد و نواح میں اشیاء خورد و نوش کے ساتھ ساتھ کئی خاندانوں کو سیلاب سے نکالا.

رپورٹس کے مطابق مزید پاک فوج کی جانب سے سینکڑوں نوجوانوں نے کشتیوں کے ذریعے سینکڑوں افراد کو بھی سیلاب سے نکالا۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے مضافاتی علاقوں میں بارشوں اور سیلاب کی بدترین تباہ کاریوں کے پیش نظر ڈیرہ پولیس فلڈ ریلیف، ریسکیو اور رفاحی کاموں میں پیش پیش ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈیرہ شہر و مضافات میں گزشتہ دنوں بارشوں اور سیلاب نے بدترین تباہی مچا دی ہے، جس سے ڈیرہ اسماعیل خان کے مضافاتی علاقے مکمل ڈوب گئے، اور لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے.

ڈیرہ اسماعیل خان میں ان آفت زدہ علاقوں میں ڈیرہ پولیس ریسکیو، فلڈ ریلیف، ٹریفک منیجمنٹ اور دیگر رفاحی کاموں میں ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کے ساتھ ملکر بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے۔

ڈیرہ پولیس کے جوانوں نے سیلاب میں پھنسے کئی شہریوں اور بچوں اور خواتین کو باہر نکالا اور انہیں فلڈ ریلیف سینٹر تک بحفاظت پہنچایا.

دسرے جانب ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں سیلاب سے متاثرہ بعض علاقوں بحالی کا کام شروع ہوگیا ہے جبکہ امدادی سر گرمیاں جاری ہیں، تونسہ بھارتھی روڈ کو بھی بحال کردیا گیا ہے تاہم ابھی 4 لاکھ سے زائد افراد کھلے مقامات پر بیٹھے امداد کے منتظر ہیں۔

کوہ سلیمان میں لینڈ سلائیڈنگ سے بستی ڈاہر کے قریب جھیل بن گئی ہے، جنوبی پنجاب میں تونسہ، ڈی جی خان اور راجن پور کے علاقوں میں دریائے سندھ میں آنیوالے سیلاب اور کوہ سلیمان کے 440 کلومیٹر طویل سلسلے سے آنیوالے بارشی پانی کے ریلوں نے شدید تباہی مچائی ہے۔

محکمہ تعلقات عامہ پنجاب کی طرف سے صحافیوں کے ایک وفد کو کوہ سلیمان کے علاقے کا دورہ کروایا گیا۔

کمشنر ڈیرہ غازیخان محمد عثمان انور نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کوہ سلیمان میں پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی بارش ہوٸی ہے، رود کوہیوں میں زیادہ پانی آنے کی وجہ سے علاقے میں سیلاب آیا ہے۔

بروقت اقدامات کی وجہ سے تمام بڑے شہروں کو اربن فلڈنگ سے بچا لیا گیا ہے، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے تمام متاثرہ علاقوں میں ریلیف وبحالی کا عمل شروع کیا گیا ہے، راجن پور اور ڈیرہ غازی خان کے 516 مواضعات کے 4 لاکھ لوگ اور دو لاکھ ایکڑ فصلیں متاثر ہوٸی ہیں اب تک متاثرین میں 37 ہزار خیمے اور 40 ہزار فوڈ ہیمپرز تقسیم کٸے جاچکے ہیں، سیلاب سے 44 ہزار کچے مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

مقامی کمیٹیوں کی تشکیل دیکر لوگوں کو مدد پہنچاٸی جارہی ہے. کمشنر ڈیرہ غازیخان محمدعثمان انور اور مقامی رہنما سردار عمر بزدار نے سیلاب میں جاں بحق افراد کے لواحقین میں چیک بھی تقسیم کیے، تحصیل کوہ سلیمان کے 16 جاں بحق افراد کے لواحقین کو فی کس 8، 8 لاکھ روپے کے چیک دیٸے گٸے۔

دوسری طرف ابھی بھی سیلاب اوربارشوں سے متاثرہ افراد کی بڑی تعداد کھلے آسمان تلے سڑکوں کنارے اور محفوظ مقامات پر ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ سکول بند ہونے کی وجہ سے بچوں کا تعلیمی سلسلہ بھی رکا ہوا ہے۔

کوہ سلیمان میں پہلی بار لینڈنگ سلائیڈنگ شروع ہوئی ہے جس سے بستی ڈاہر کے قریب پچاس فٹ گہری جھیل بن گئی ہے۔ حکام کے مطابق سیلاب اوربارشوں سے 50 فیصد سڑکیں ٹوٹ چکی ہیں، تو نسہ سے بلوچستان کی جانب جانیوالی روڈ کو کافی حد تک بحال کردیا گیا ہے۔