باجوڑ دھرنا : پولیس کا کردار اور عوامی رویہ

عبداللہ جان صابر

باوجود معروضی حالات اور دشمنانِ پاکستان کے گٹھ جوڑاور سازشوں کی بناء پر پاکستان کو شدت پسندی اور دہشت گردی ایسے عفریتوں کا سامنا رہا ہے ۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ پاکستان کے بعض علاقے ‘نوگو ایریاز’ بنے ہوئے تھے لیکن افواج اور امن قائم کرنے والے اداروں کی گزشتہ ڈیڑھ دہائی کی سرتوڑ کوششوں اور قربانیوں کی بدولت قوم کو آج پُرامن ماحول میسر ہے۔

پاکستان بطورِ ایک ریاست کے ذمہ دارانہ انداز میں آگے بڑھ رہا ہے وہ پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ضرور ہے لیکن وہ اپنے دفاع کے حوالے سے اس سے بھی کہیں زیادہ حساس ہے۔ پاک افغان بارڈر مینجمنٹ اور پاک ایران بارڈر پر باڑ لگانے کے پیچھے بھی یہی جذبہ کارفرما ہے تاکہ خطے کے یہ تینوں ممالک دہشت گردی اور تخریب کاری سے محفوظ رہیں۔

خیبرپختونخوا میں انضمام سے قبل قبائلی اضلاع میں خدمات انجام دینے والے 28 ہزار کے قریب خاصہ دار اور لیویز فورس کو 8 اپریل 2019ء کو خیبرپختونخوا پولیس میں ضم کرنے کا اعلان کیا گیا جس کے بعد پاک فوج نہ انکو باقاعدہ طورپروفیشنل تربیت دی کہ امن و امان کے قیام کو کیسے یقینی بنانا ہے اور دہشتگردوں کیساتھ کیسے نمٹنا ہے۔

تربیت حاصل کرنے کے بعد قبائلی اضلاع کی پولیس کو جدید جنگی الات سے بھی لیس کردیا گیا تاکہ اپنی زمہ داریاں نبھانے میں انکو کوئی مشکل پیش نہ آئے۔اب قبائلی اضلاع میں ہر طرح کی سیکیورٹی صورتحال کی ذمہ داری پولیس پر عائد ہوتی ہے لیکن قبائلی عوام کے رویوں میں آج بھی تبدیلی نظر نہیں ارہی کیونکہ وہاں پر ہر چھوٹے بڑے واقعے کیلئے پاک آرمی اور خفیہ اداروں کو ذمہ دار ٹہرایا جاتا ہے جو دراصل ملک دشمن عناصر کا ایجنڈا بھی ہے

اگر ہم خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع کا مشاہدہ کریں تو آئے روز ٹارگٹ کلنگ کے واقعات اور دیگر جرائم ہوتے ہوٸے نظر آرہے ہیں لیکن قبائلی اضلاع کے برعکس وہاں اسطرح کے واقعات کیلئے پولیس اور سول انتظامیہ پر تنقید کیجاتی ہے۔اگر دھرنا بھی ہوتا ہے تو پولیس کے کردار پر سوالات اٹھاٸے جاتے ہیں اور پھر پولیس افسران جاکر مظاہرین کیساتھ مذاکرات کرتے ہیں کہ جلد ملوث ملزمان قانون کے کٹہرے میں لاٸیں گے۔

واقعے کے فوری بعد پولیس کاروائی کا آغاز کرتے ہیں اور چند دنوں یا ہفتوں میں ملزمان کو گرفتار کیا جاتا ہے۔لیکن ان اضلاع کی عوام نے کبھی بھی اپنے دھرنوں اور احتجاجوں میں پاک فوج یا انٹیلیجنس اداروں کے خلاف بات نہیں کی ہوگی کیونکہ یہ لوگ جانتے ہیں کہ پاک آرمی کے خلاف بات کرنا ملکی سلامتی کے خلاف ہے

لیکن بدقسمتی سے قبائلی اضلاع میں معاملہ اس کے برعکس چل رہا ہے وہاں نہ تو پولیس افسران یا سول ایڈمنسٹریشن کے عہدیداران احتجاج کرنے والوں کے پاس جاتے ہیں اور نہ انکی تسلی کروائی جاتی ہے بلکہ صرف تماشہ دیکھ رہے ہوتے ہیں قبائلی اضلاع میں دیگر حکومتی اداروں اور لوکل سیاستدانوں کیوجہ سے اکثر پاک آرمی کو تنقید کا سامنا ہوتا ہے

قبائلی اضلاع میں فاٹا انضمام کے بعد سے اج تک پولیس کا کردار زیادہ متحرک نظر نہیں آرہا۔وہاں پر ہم نے کبھی بھی پولیس کو کسی بڑے واقعہ کو حل کرواتے نہیں دیکھا۔قبائلی ضلع باجوڑ میں پچھلے پانچ دنوں سے عوامی دھرنا جاری ہے جو مکمل طور پر ہائی جیک ہوچکا ہے کیونکہ وہاں مختلف تحریکوں اور تنظیموں کے مشران موجود ہے اور دھرنے کو اپنے اپنے مفادات کیلئے استعمال کررہے ہیں

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ قبائلی عوام اگر مستقل امن کے خواہاں ہیں تو انکو بھی چاہیئے کہ یا تو دھرنوں سے گریز کریں اور تمام مسائل کو افہام و تفہم سے حل کروانے کی کوشش کریں اور یا اپنے دھرنوں میں شرانگیز تقاریروں پر پابندی عائد کریں تاکہ ملک کی سلامتی بھی محفوظ ہو اور قبائلی اضلاع میں ترقی کا سفر بھی متاثر نہ ہو۔دشمن کو شکست دینے کیلئے اجتماعی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔