پاک افغان بارڈر پر افغان طالبان کی جانب سے فوجی نقل و حرکت میں اضافہ

پاک افغان بارڈر پر افغان طالبان کی جانب سے فوجی نقل و حرکت میں اضافہ

طالبان کے حالیہ ایک سالہ دور حکومت کے دوران وقتاً فوقتاً پاک افغان بارڈر پر مختلف اور متعدد مقامات پر کشیدگی کی اطلاعات ملتی رہی ہیں۔ منگل 23 اگست کو پاراچنار کے سرحدی علاقے خرلاچی کے ساتھ سرحد پار افغان طالبان کی جانب سے اشتعال انگیزی دیکھنے میں آئی۔ طالبان نے اس دوران اپنے علاقے کے اندر پورا دن غیر معقول فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس دوران انہوں نے بھاری ہتھیاروں کی بھرپور نمائش کی۔ 12 بیرل میزائل لانچر سمیت بکتر بند گاڑیوں کی نقل و حرکت سے اپنے ارادوں کا کھلا اظہار کرتے ہوئے حالات کو کشیدگی کی طرف لے جانے کی بھرپور کوشش کی۔

حکومت نے سرحدی علاقے کے قبائل کی مشاورت اور ان کے بھرپور تعاون سے سرحد پار قبائلی عمائدین کے ساتھ جرگہ کرکے انہیں متنبہ کیا کہ سرحد کے ساتھ ایسی اشتعال انگیزی برداشت نہیں کی جائے گی۔ خیال رہے کہ ہفتہ قبل رات ایک بجے افغان سمگلروں کی جانب سے سرحدی باڑ عبور کرنے کی غیر قانونی کوشش کرنے پر پاک فوج نے فائرنگ کرکے ایک شخص کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ جس پر افغان طالبان نے ردعمل دکھاتے ہوئے اس کے خون بہا اور پختونوں کی روایات کے مطابق جرمانہ کی ادائیگی کا مطالبہ کیا تھا۔

تاہم حکومت پاکستان نے مجرمین کے ساتھ ایسے کسی معاملے کو ان کے جرم میں کمک کے مترادف قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر انکار کر دیا تھا، جس پر دونوں جانب کے سرحدی قبائل کے مابین جرگے بھی ہوگئے تھے۔ حکومت اور مقامی قبائل کا اس حوالے سے واضح اور متفقہ طور پر یہ موقف ہے کہ بارڈر کی سکیورٹی حکومت کا فرض بنتا ہے۔ اسے غیر قانونی طور پر عبور کرنا ملکی قانون اور اس کی حاکمیت اعلیٰ کو للکارنا ہے۔ چنانچہ کسی کو بھی رات کی تاریکی میں سرحد عبور کرنے کا حق اور اختیار حاصل نہیں۔ پاکستانی قبائل اہلیان بوڑکی اور خرلاچی نے بھی اپنے موقف سے سرحد پار قبائل اور افغان حکومت کو آگاہ کیا۔

خیال رہے کہ افغانستان منشیات پیدا کرنے والے سب سے بڑے ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔ چنانچہ پاراچنار کے ساتھ ملحقہ سرحد پار سے بڑے پیمانے پر نشہ آور مواد سمگل کیا جاتا ہے۔ آئس، افیون اور چرس کے علاوہ دیگر نشہ آور مواد کی ترسیل اس سرحد پر کافی عرصہ سے چل رہی ہے۔ عوام کے بار بار اعتراضات کے باوجود حکومت یہ گھناؤنا دھندہ روکنے میں ناکام رہی ہے۔ آئیس کے نشے نے پاراچنار سمیت ضلع کرم بلکہ تمام سرحدی اضلاع کے جوانوں کو تباہی کے دہانے پر لاکر کھڑا کیا ہے۔ چنانچہ اس حوالے سے حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون ہمارا قومی فرض ہے۔