قبائلی عوام کو ایک بار پھر دھوکہ دینے کی کوشش ہورہی ہے

خیبرپختونخوا میں طالبانائزیشن کے آغاز میں جب مخصوص عسکریت پسند وزیرستان میں آکر آباد ہوگئے تووہاں کے لوگوں نے نہ صرف انکو رہنے کیلئے جگہ دی بلکہ انکے ساتھ رشتہ داریاں بھی بنائیں کیونکہ وزیرستان کے لوگ انکو مجاہد اور انکے ساتھ تعلقات کو اپنی خیرخواہی سمجھتے تھے۔

وقت گزرنے کیساتھ ساتھ جب یہ ہمدردیاں اور رشتہ داریاں مزید مضبوط ہوتی گئی تو پھر ازبکستان اور تاجکستان سے بھی عسکریت پسند یہاں آکر آباد ہوگئے۔یوں عسکریت پسند تنظیمیں بننا شروع ہوئیں اور آخرکار تحریک طالبان کی ایک منظم جماعت سامنے آئی۔

وزیرستان کے باسیوں نے جن لوگوں کیساتھ رشتہ داریاں نبھائیں اور انکو اپنے گھروں میں رہنے دیا پھر ان لوگوں کی وجہ سے وزیرستان سمیت تمام قبائلی اضلاع میں دہشتگردی پھیل گئی،لوگ دربدر ہوگئے،علاقائی عوام کا مالی و جانی نقصان ہوا اور بین الاقومی سطح پر پاکستان کی بدنامی بھی ہوئی۔

اب ایک بار پھر کچھ لوگ مخصوص ایجنڈا لیکر نکلے ہیں اور قبائلی عوام کو یہ احساس دلانے کی کوشش کررہے ہیں کہ یہ انکے خیرخواہ اورامن کے داعی ہیں۔پی ٹی ایم، این ڈی ایم اور دیگر ناموں سے مشہور وہی شرپسند عناصراس بار نئی حکمت عملی کیساتھ سامنے آرہے ہیں۔

امن کا لبادہ اڑھ کر پختون تحفظ موومنٹ اور دیگر شرپسند تنظیمیں قبائلی عوام کو گمراہ کرنے کرنے کیلٸے متحرک ہوچکے ہیں کیونکہ قبائلی اضلاع پاکستان مخالف قوتوں کیلئے سافٹ کارنرز ہیں جہاں کے عوام کو قوم پرستی اور مذہب کے نام پر آسانی سے دھوکہ دیا جاسکتا ہے۔

جب قبائلی اضلاع میں امن اور ترقی کے دشمنان کو محسوس ہوا کہ ٹیراریزم پالیسی ناکام ہوگئی تو انہوں نے پی ٹی ایم، این ڈیم ایم اور دیگر قوم پرست جماعتیں اس مقصد کیلئے منتخب کروائی۔انڈین کرانیکلز میں یہ تمام مہرے بےنقاب ہوچکے ہیں اور انکو بیرونی فنڈنگ کے ثبوت بھی موجود ہیں۔

قبائلی اضلاع سمیت پورے خیبرپختونخوا میں تب تک مکمل امن قائم نہیں ہوسکتا جب تک قبائلی عوام اداروں کیساتھ کھڑے نہ ہوکیونکہ منظور پشتین اور دیگر دشمنان امن پشتون قوم کو ورغلانے کی بھرپور کوشش کرہے ہیں تاکہ بیرونی آقاٶں کے مقاصد پورے ہوسکیں۔

کیا قبائلی عوام نے کبھی سوچا ہے کہ جب سے قبائلی اضلاع میں امن اور ترقی کا سفر شروع ہوا ہے تو پی ٹی ایم جیسے لوگ پشتون بلٹ میں نمودار ہوئے ہیں؟ کیا قبائلی عوام دوبارہ دہشت اور وخشت کے دور میں جانا چاہتے ہیں؟ کیا قبائلی عوام کی ذمہ داری نہیں بنتی کہ منظور پشتین سے پوچھیں کہ سیکیورٹی اداروں کو گالیاں دینا کس کا ایجنڈا ہے؟ کیا قبائلی عوام کو اپنی نئی نسل کی فکر نہیں کرنی چاہیئے؟

مختصر یہ کہ اگر قبائلی عوام دوبارہ دہشتگردی کے دور میں جانا نہیں چاہتے اور ترقی کا سفر جاری رکھنا چاہتے ہیں تو پھر انکو ہر اس فرد یا تحریک کو رد کرنا ہوگا جو امن کے نام پر قبائلی اضلاع کی تباہی کے درپے ہو۔قبائلی عوام کو ان ملک دشمن عناصر کے خلاف جاگنا ہوگا۔

فاٹا انضمام کے بعد اب قبائلی عوام کیساتھ اختیار ہے کہ جلسے جلوسوں کے بجائے اپنے سیاسی مشران، سول انتظامیہ اور دیگر اداروں کے ذریعے اپنے مسائل حل کروائیں کیونکہ دھرنوں اور ریلیوں سے فائدہ صرف اور صرف دشمن قوتوں کو ہوتا ہے جو انکا اصل مقصد بھی ہے۔