بلوچستان : حکومت لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے کوشاں ہے

بلوچستان کے مشیر داخلہ میر ضیاء لانگو نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے لاپتہ افراد کے مسئلہ کے حوالے سے گفتگو کی۔

انہوں نے کہا ہے کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ ریاست کا ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ جلسے جلوسوں میں اس پر کوئی بات کی جائے۔ لاپتہ افراد کی کمیٹی بخوبی واقف ہے کہ حکومت سنجیدگی سے کس طرح لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے کوشاں ہے۔

مشیر داخلہ نے کہا کہ پہلے دن کہا تھا کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ ہر فارم پر اٹھاؤنگا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان بھی اپنے طور پر بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ یہ مسئلہ حل ہو۔

انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کے لواحقین کے مطالبے پر جوڈیشل کمیشن بھی قائم کیا گیا ہے۔ لواحقین کا حق ہے کہ وہ احتجاج کریں لیکن احتجاج ایسا نہ ہو جو کسی کیلئے تکلیف کا باعث بنے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ قدوس بزنجو نے اپنے پروٹوکول پر بھی کہا ہے کہ ٹریفک نہ جام ہو۔ لاپتہ افراد کے لواحقین کے مسئلے پر حکومت سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔

لواحقین سے التجاء کرتے ہیں کہ وہ یقین رکھیں، ہم کام کر رہے ہیں۔

مشیر داخلہ نے کہا کہ احتجاج کرنیوالے ہمارے بھائی بہن ہیں، ہمارے اپنے ہیں۔ لیکن جس احتجاج سے عوام کو تکلیف ہو، تو اس پر ایکشن لینا مجبوری بن جاتی ہے۔

وزیراعلیٰ قدوس بزنجو بار بار اپنے نمائندے مذاکرات کیلئے بھیج رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مظاہرین کو حکومت کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے۔

دسرے جانب لاپتہ افراد کے لواحقین نے کوئٹہ کے چار مختلف مقامات پر دھرنا کا آغاز کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق شہر کے مرکزی سڑک زرغون روڈ پر اتحاد چوک، جناح روڈ پر پی ٹی سی ایل چوک، جی پی او چوک اور سول سکریٹریٹ کے قریب ہاکی چوک پر لاپتہ افراد کے لئے دھرنا دیا جا رہا ہے۔ جسکی وجہ سے شہر میں شدید ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ بعض افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب شہر کے مرکزی مقامات کی بندش کی وجہ سے متبادل راستوں پر بھی گاڑیوں کا ہجوم جمع ہو گیا ہے اور بد نظمی کے باعث ٹریفک جام ہو گیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں ایمبولنس، پی ڈی ایم اے، فائر بریگیڈ اور دیگر امدادی اداروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ جبکہ مسافروں کو بھی دشواریوں کا سامنا ہے۔

گاڑیوں کی بڑی قطاریں شہر کی مختلف سڑکوں پر کئی گھنٹوں سے پھنسی ہوئی ہیں۔