عمران خان کیخلاف انسداددہشت گردی ایکٹ کےتحت مقدمہ درج

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کےخلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کےتحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق عمران خان کےخلاف مقدمہ تھانہ مارگلہ میں درج کیا گیا ہے۔ مقدمہ مجسٹریٹ علی جاوید کی مدعیت میں درج ہوا۔

ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے ایڈیشنل سیشن جج کو ڈرایا دھمکایا آئی جی اسلام آباد اور ڈی آئی جی کو دھمکی دی عمران خان نےتقریرمیں کہاتمہارےاوپرکیس کرناہے مجسٹریٹ صاحبہ آپ تیار ہوجائیں آپ کے اوپر بھی ایکشن لیں گے آپ سب کو شرم آنی چاہیے۔

متن کے مطابق عمران خان کے ان الفاظ اورتقریر مقصد پولیس کے اعلی حکام اورعدلیہ کو دہشت زدہ کرنا تھا عمران خان کے اس انداز اورڈیزائن میں کی گئی تقریر سے پولیس حکام،عدلیہ اورعوام میں خوف و ہراس پھیلا۔

عمران خان کی تقریرکے متعلقہ حصےکامتن ایف آئی آر کے ساتھ لگایا گیا ہے۔

عمران خان کا انسداد دہشت گردی کے مقدمے پر عدالت سے رجوع کا فیصلہ

پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے انسداد دہشت گردی کے مقدمے پر عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق عمران خان نے رات گئے بنی گالہ میں قانونی ٹیم سے مشاورت کی، اور انسداد دہشت گردی کے مقدمے پر عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے قانونی دستاویزات پر دستخط کر دیے۔

یاد رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف تھانہ مارگلہ میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

عمران خان کے خلاف مقدمہ ایڈیشنل سیشن جج کو ڈرانے دھمکانے پر درج کیا گیا، عمران خان کی تقریر کا متن ایف آئی آر کے ساتھ لگایا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے ایڈیشنل سیشن جج کو ڈرایا دھمکایا، آئی جی اسلام آباد اور ڈی آئی جی کو دھمکی دی، عمران خان نے تقریر میں کہا تمھارے اوپر کیس کرنا ہے، مجسٹریٹ صاحبہ آپ تیار ہو جائیں آپ کے اوپر بھی ایکشن لیں گے، آپ سب کو شرم آنی چاہیے۔

متن کے مطابق عمران خان کے ان الفاظ اور تقریر کا مقصد پولیس کے اعلیٰ حکام اور عدلیہ کو دہشت زدہ کرنا تھا، عمران خان کے اس انداز اور ڈیزائن میں کی گئی تقریر سے پولیس حکام، عدلیہ اور عوام میں خوف و ہراس پھیلا۔

پی ٹی آئی کارکن ملک بھر میں سڑکوں پر سراپا احتجاج بن گئے

عمران خان کی گرفتاری کی خبروں پر پی ٹی آئی کارکن ملک بھر میں سڑکوں پر سراپا احتجاج بن گئے۔

تفصیلات کے مطابق عمران خان کی گرفتاری کی اطلاعات پر ملک کے مختلف شہروں میں پی ٹی آئی کے کارکن اپنے قائد سے اظہار یک جہتی کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔

کراچی میں شارع فیصل پر علی زیدی کی رہنمائی میں نرسری کے قریب پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان نے احتجاج کیا، کارکنان انصاف ہاؤس پہنچ گئے، اور پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے حق میں نعرے لگائے، نرسری کے قریب احتجاج میں خواتین بھی شریک ہوئیں۔

لاہور کے لبرٹی چوک پر پی ٹی آئی کارکنان بڑی تعداد میں جمع ہوئی، پشاور، گوجرانوالہ، حافظ آباد، سیالکوٹ، فیصل آباد، اوکاڑہ، ساہیوال، ملتان، رحیم یار خان، بہاولپور، صادق آباد میں بھی کارکنوں نے شدید احتجاج کیا، اور عمران خان اور اے آر وائی نیوز کے حق میں نعرے لگائے۔

دوسری طرف عمران خان کی گرفتاری کی خبریں پھیلنے کے بعد پی ٹی آئی کے کارکنوں کی بڑی تعداد بنی گالہ کے باہر جمع ہو گئی ہے، تحریک انصاف کی قیادت بھی بنی گالہ پہنچ گئی ہے۔

کراچی کے رہنماؤں اور گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ سمیت ملک بھر سے پی ٹی آئی رہنماؤں نے کارکنان کو بنی گالا پہنچنے کی ہدایت کر دی ہے، اسد عمر اور مراد سعید بھی بنی گالا پہنچ گئے ہیں۔

گزشتہ روز لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسے سے خطاب میں عمران خان نے کہا میں جیلوں سے نہیں ڈرتا، حقیقی آزادی کے حصول تک سڑکوں پر رہوں گا۔

سوشل میڈیا پر عمران خان کی گرفتاری کی افواہیں

سوشل میڈیا پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری سے متعلق افواہیں گردش کر رہی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ میں معمول کے مطابق پولیس سکیورٹی ہے۔ بنی گالہ کے باہر 6 سے 7 پولیس اہلکار تعینات ہیں۔

پی ٹی آئی رہنما مراد سعید نے کچھ دیر قبل ٹوئٹ کیا: ’عمران خان کی گرفتاری کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں، اپنی خودداری مانگنے کی جسارت کی قیمت چکھانے کا وقت آگیا ہے، نکلو پاکستان کی خاطر‘۔

دوسری جانب سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت تھانہ مارگلہ میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مقدمہ مجسٹریٹ علی جاوید کی مدعیت میں درج ہوا ہے۔

ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا کہ عمران خان نے ایڈیشنل سیشن جج کو ڈرایا دھمکایا، آئی جی اسلام آباد اور ڈی آئی جی کو دھمکی دی، انہوں نے تقریر میں کہا کہ تمہارے اوپر کیس کرنا ہے، مجسٹریٹ صاحبہ آپ تیار ہو جائیں، آپ کے اوپر بھی ایکشن لیں گے، آپ سب کو شرم آنی چاہیے۔

متن کے مطابق عمران خان کے ان الفاظ اور تقریر مقصد پولیس کے اعلیٰ حکام اورعدلیہ کو دہشت زدہ کرنا تھا، عمران خان کے اس انداز اور ڈیزائن میں کی گئی تقریر سے پولیس حکام، عدلیہ اور عوام میں خوف و ہراس پھیلا۔

عمران خان کی تقریر کے متعلقہ حصے کا متن ایف آئی آر کے ساتھ لگایا گیا ہے۔