امن مذاکرات کے حوالے سے ٹی ٹی پی کا نیا اعلامیہ

عبدالله جان

جب سے تحریک طالبان اور حکومت پاکستان کے درمیان افغانستان میں امن مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا ہے تب سے پاکستان کے اندر اور باہر معلوم اور نامعلوم تحریکوں،سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کی طرف سے عجیب سی بےاضطرابی نظر آرہی ہے حتی کہ پشتونوں کے لئے پرامن خیبرپختونخوا کے خواہاں سیاسی جماعتیں بھی کنفیوز ہیں کیونکہ امن مذاکرات بھی انکو قابل قبول نہیں ہیں اور فوجی آپریشنز کے بھی خلاف ہیں۔

حالیہ پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کی زیرسرپرستی ایک قومی جرگہ بھی ہوا جس میں دو اہم مطالبات سامنے آئیں،اول یہ کہ اس معاملے میں پاکستانی پارلیمان کو اعتماد میں لینا چاہیئے ورنہ ہمیں امن مذاکرات قابل قبول نہیں ہیں۔دوسرا یہ کہ خیبرپختونخوا کو مکمل طور پر پولیس کے حوالہ کیا جائے۔اس مضمون کے عنوان کی تفصیل پر جانے سے پہلے ان دو مطالبات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں۔

جرگہ میں پاکستان کے پارلیمان کے حوالے سے حقیقت یہ ہے کہ قبائیلی مشران سمیت اس جرگہ خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر محمد علی سیف، سینیٹر طلحہ محمود اور دیگر سیاسی لوگ بھی شامل تھے۔موجودہ حکومت کی وفاقی ترجمان مریم اورنگزیب اور وزیرداخلہ رانا ثنااللہ نہ بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امن مذاکرات حکومتی سرپرستی میں ہورہے ہیں۔

اب اگر حکومتی اتحاد میں شامل عوامی نیشنل پارٹی کی حلومتی ترجمان اور وفاقی وزیر داخلہ کے بیان پر تسلی نہیں ہوتی تو پھر انکے ساتھ اتحاد کس مقصد کے لئے کیا تھا؟ مختصر یہ کہ امن مذاکرات میں تمام سٹیک ہولڈرز شریک ہیں اور اس اجتماعی ایشو کو ختم کرنے کیلئے حکومت اور ریاستی ادارے سنجیدگی سے کام کررہے ہیں لیکن اے این پی کے پاس اگر مذاکرات اور جنگ کے علاوہ کوئی تیسرا آپشن موجود ہے تو وہ سامنے رکھ دیں۔

خیبرپختونخوا کی سیکیورٹی امور مکمل طور پر پولیس کے حوالے سے جو انکا مطالبہ ہے تو میرے خیال میں یہ بھی صرف سیاست چمکانے کیلئے ہے کیونکہ پاکستان کے ہر صوبے میں پولیس، آرمی، رینجرز، ایف سی اور دیگر سیکیورٹی اداریں اس مقصد سے تعینات ہیں کہ وہاں امن قائم ہو۔اب اگر اے این پی کو خیبرپختونخوا میں صرف پولیس قابل قبول ہے تو اسکا مطلب یہ ہوا کہ انکو پاک آرمی سے شاید کوئی پریشانی ہے لیکن اسکا کھلے عام اظہار نہیں کرسکتے۔

اگر پولیس کے حوالے سے اے این پی کا مطالبہ پورا کیا جائے تو کیا اے این پی یہ گارنٹی دے سکتی ہے کہ خیبرپختونخوا میں مکمل طور پر امن ہوگا؟ ساتھ ساتھ اگر کل کو کوئی دوسری سیاسی جماعت کو پولیس سے پریشانی ہو اور وہ پولیس کے خاتمے کا مطالبہ کریں تو پھر کیا ہوگا؟ مختصر یہ کہ جرگے کے مطالبات میں صرف سیاسی رنگ چڑھا تھا سنجیدہ کچھ بھی نہیں تھا۔

اب آتے ہیں اس مضمون کے عنوان کی طرف کہ ٹی ٹی پی نے امن مذاکرات کے حوالے سے ایک نیا اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ امن مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے اور ہم ایک پرامن پاکستان کیلئے اس سلسلے کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔اعلامیہ میں ان لوگوں کو بھی پیغام دیا گیا ہے جو امن مذاکرات کے خلاف ہیں اور اس عمل کے خلاف پراپیگنڈے کررہے ہیں۔

ٹی ٹی پی نے اعلامیہ میں کہا ہے کہ سیکیولر اور مغربی قوتوں کے حامی لوگ امن مذاکرات کے خلاف ہیں کیونکہ اس کے پیچھے ان کے مخصوص مقاصد چھپے ہیں۔اعلامیہ میں یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ جو لوگ امن مذاکرات میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں تو انکو ضرور ادا کرنا چاہیئے اور ہمارے خلاف پراپیگنڈوں سے گریز کرنا چاہیئے کیونکہ ہمیں تمام سرگرمیوں پر نظر ہیں

اب اگر ٹی ٹی پی اور حکومت پاکستان دونوں امن مذاکرات پر راضی ہیں تو میری درخواست ہے کہ امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی بجاٸے اسکی تاٸید کرنا چاہیٸے تاکہ مکمل قیام امن ممکن ہوسکے۔