پاکستان میں 3.5 ملین افغان مہاجرین موجود ہیں

عبداللہ جان

پاکستان سمیت دنیا بھر میں انسانی ہمدردی کا عالمی دن کل بروز جمعتہ 19اگست کو منایا جائے گا اس دن کے منانے کا مقصد انسانیت کی بھلائی اور فلاح و بہبود کیلئے کام کرنے والے اداروں ،انسان دوست افراد کی اہمیت و عظمت کا اعتراف اور ان کی انسانی ہمدردی کے متعلق عوامی شعور اجاگر کرنا ہے ۔

ایک رپورٹ کے مطابق انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پاکستان دنیا میں پناہ گزین کا سب سے بڑا میزبان ملک بن گیا ہے، کیونکہ 15 لاکھ افغان شہری اب بھی اس ملک میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں ، ایک اندازے کے مطابق 1980 کی دہائی سے پاکستان میں 3.5 ملین افغان مہاجرین موجود ہیں، جن میں آدھے سے زیادہ غیر رجسٹرڈ ہیں۔اس وقت پاکستان میں تقریباً 1.4 ملین رجسٹرڈ افغان مہاجرین (POR کارڈ ہولڈرز) اور اضافی 0.8 ملین ACC کارڈ ہولڈرز مقیم ہیں

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ابتدائی سالوں میں حکومت پاکستان کو عالمی برادری سے فراخدلی سے مدد ملی، جس میں افغان مہاجرین کے لیے ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) سے براہ راست خوراک کی امداد بھی شامل ہے۔ تاہم1995 میں خوراک کی براہ راست امداد ڈبلیو ایف پی نے واپس لے لی تھی۔گزشتہ چار دہائیوں میں حکومت پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کی دیکھ بھال کی ہے۔

اس حوالے سےپاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکورٹی، بارڈر کراسنگ اور تجارت کو منظم کرنے کے لیے پاک افغان سرحد پر باڑ کی ضرورت ہے۔ اس کا مقصد عوام کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ ان کی حفاظت کرنا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کا کام 94 فیصد مکمل ہو چکا ہے، ہماری پوری توجہ ہے اور مغربی بارڈر مینجمنٹ کے تحت کام کچھ عرصے میں مکمل ہو جائے گا۔پاکستانی فوج نے مغربی سرحد پر سیکورٹی کے انتظام میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے افغانستان میں امریکی انخلا کے بعد کے انتظام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔