پاکستان برطانیہ سے اپنے مجرم واپس لے سکے گا، معاہدے پر دستخط

پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مجرموں اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کی واپسی کے معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیں۔

برطانوی وزیر داخلہ پریتی پٹیل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ مجھے فخر ہے کہ میں نے اپنے پاکستانی دوستوں کے ساتھ غیر ملکی مجرموں اور امیگریشن کے مجرموں کو برطانیہ سے پاکستان واپس کرنے کے لیے نئے تاریخی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ڈیل ہماری #NewPlanForImmigration کو عملی شکل میں ظاہر کرتی ہے، جیسا ہم برطانوی عوام کے لیے ڈیلیور کرتے ہیں۔

ٹویٹر پر ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے لکھا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان ہمارا معاہدہ خطرناک غیر ملکی اور امیگریشن کے مجرموں کو ہٹانے کے بارے میں ہے، جنہیں برطانیہ میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

برطانوی عوام کے پاس کافی حد تک ایسے لوگ ہیں، جو ہمارے قوانین کا غلط استعمال کر رہے ہیں اور پابندیوں سے بچنے کے لیے سسٹم سے کھیل رہے ہیں۔ اسی چیز کو ہم بدل رہے ہیں۔

اس معاہدے سے پاکستان اور برطانیہ اپنے سزا یافتہ مجرموں کو وطن واپس بھیج سکیں گے، تاہم یہ صرف متعلقہ عدالتوں سے سزا پانے والے شہریوں کی وطن واپسی کی اجازت دے گا۔

خیال رہے کہ رواں سال جنوری میں برطانیہ کے ساتھ مجرموں کی تحویل کے معاہدے کے حوالے سے بنائی گئی خصوصی کمیٹی نے کہا تھا کہ برطانیہ کے ساتھ مجرموں کی واپسی کے معاہدے پر بہترین عوامی مفاد میں دستخط کیے جائیں گے۔

17 جنوری کو ہونے والے کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ برطانیہ کے ساتھ مجرموں کی واپسی کے معاہدے پر بہترین عوامی مفاد میں دستخط کیے جائیں گے.

معاہدے کو وفاقی کابینہ میں لے جانے سے پہلے برطانیہ سے مزید مشاورت کی جائے گی، برطانیہ سے مشاورت کے بعد معاہدے کو وفاقی کابینہ سے حتمی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ مجرمانہ حوالگی کے معاہدے پر مذاکرات کا پہلا دور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں اکتوبر 2019ء میں ہوا تھا۔

بعد ازاں اپریل 2021ء میں اس وقت کے وزیر داخلہ شیخ رشید نے برطانوی ہائی کمیشن کرسچن ٹرنر سے ملاقات کی اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی وطن واپسی پر بات چیت کی، جو طبی بنیادوں پر جیل سے رہائی کے بعد لندن میں ہیں۔