پاک فوج کیخلاف مہم درحقیقت پاکستان کیخلاف مہم ہے

وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی سوات میں موجودگی کے حوالے سے جو باتیں کی جا رہی ہیں، ان کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ جب سے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ آیا ہے، عمران خان کے خلاف جس قسم کے الزامات ثابت ہوئے ہیں، ایک نہیں کئی ہزار انٹریاں سامنے آئی ہیں.

انہوں نے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس میں فیصلے کے نتائج سے بچنے کے لئے پی ٹی آئی نے چند ہفتوں سے توجہ ہٹانے کے لئے سنگدلانہ حرکتیں کی ہیں، 75 سالہ پاکستانی تاریخ میں کئی ایسے واقعات ہونگے، جس پر اعتراضات بھی ہونگے، لیکن آج سے پہلے اس پر کبھی سوشل میڈیا پر ایسا طوفان بدتمیزی برپا نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ لسبیلہ ہیلی کاپٹر واقعہ ایک افسوسناک ہے، پوری قوم کو افسوس ہوا کہ بہادر بیٹے اس سانحہ میں شہید ہوئے، جب قوم سوگوار تھی، اسوقت پی ٹی آئی اور انڈیا کے سوشل میڈیا اکائونٹ سمیت مختلف ممالک سے امداد کے ساتھ پاکستان کے خلاف مہم چلائی گئی، پاک فوج کے خلاف مہم درحقیقت پاکستان کے خلاف مہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سے 529، انڈیا سے 18 باقی ممالک سے 33 اکائونٹس سامنے آئے ہیں، باقی تحقیقات جاری ہیں، اس معاملے پر قانون اور قائدے کے مطابق کارروائی عمل میں لائیں گے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ جس بے دردی کا مظاہرہ ٹویٹس اور میسجز میں کیا گیا، اس پر پوری قوم شرمسار ہے۔

شہباز گل کے بیان پر چھ دن عمران خان نے کوئی کمنٹ نہیں کیا، عمران خان اقتدار چھین جانے کے دکھ میں بہت دور تک جا رہے ہیں، یہ کہا گیا کہ شہباز گل کو مارا پیٹا گیا، ان کے اپنے وزیر نے بیان دیا کہ شہباز گل پر کوئی تشدد نہیں ہوا، جھوٹ کا یہ سلسلہ بند ہونا چاہیئے۔

فارن فنڈنگ فیصلے پر قانون کے مطابق احتساب کیا جائے گا، کوئی بھی ایسا قدم نہیں اٹھایا جائے گا، جس سے یہ تاثر ہو کہ ہم بدلہ لے رہے ہیں، جو ہمارے ساتھ ہوا، وہ داستان الگ ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ عمران خان نے پہلے امریکی سازش کی بات کی، جب وہ بیانیہ کامیاب نہ ہوا تو امریکا کے ساتھ تعلقات ٹھیک کرنے کے لئے ایک کمپنی کی خدمات حاصل کر لیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قانون حرکت میں آچکا ہے، شہداء کے لواحقین کو جس طرح دکھ پہنچایا گیا ہے، ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔

انہوں نے کہا کہ 18 انڈین اکاؤنٹس ہیں، آنے والے دنوں میں مزید انکشافات ہوں گے، جو انہوں نے ہمارے خلاف کیا، وہ سارا جھوٹ پر مبنی تھا، ہماری حکومت سیاسی انتقام لینے پر یقین نہیں رکھتی، ان کے اپنے وزیر نے بیان دیا کہ کسی نے ان کو نہیں مارا۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی تقرری کو سیاسی موضوع نہیں بننا چاہیئے، یقین دلاتا ہوں کہ آرمی چیف کی تقرری سے متعلق اس وقت کوئی پراسس نہیں ہو رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے شوکت خانم اسپتال کے نام پر فنڈز اکٹھے کیے، عمران خان نے خیرات کے پیسے سیاست کے لیے استعمال کیے، تحریک انصاف الیکشن کمیشن کے فیصلے سے توجہ ہٹانا چاہ رہی ہے۔

اداروں کے خلاف مہم کی تفتیش آخری مرحلے میں پہنچ گئی، اس مہم کیخلاف تحقیقات کے نتائج جلد سامنے آئیں گے اور ذمہ داروں کیخلاف قانون کے مطابق ایکشن ہوگا، تاہم کسی قسم کا سیاسی انتقام نہیں لیا جائے گا۔

شہداء کیخلاف سوشل میڈیا مذموم مہم کو بھارت سے بھی سپورٹ حاصل تھی، شہداء کے لواحقین اور فوج کے خلاف جو باتیں کی گئیں، وہ کوئی محب وطن نہیں کرسکتا۔

انہوں نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی سوات میں موجودگی کے حوالے سے جو باتیں کی جا رہی ہیں، ان کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔