اسلامی جمہوریہ پاکستان کے یوم آزادی کے خلاف ایک منظم پروپگنڈا

جغرافیائی آزادی یا ایک الگ زمین کے ٹکرے کا حصول یقیناً بنیادی حیثیت کا حامل ہے، لیکن اس کی کامل افادیت اس وقت ممکن ہوسکتی ہے، جب کوئی ملت اپنے تمام عزم و ارادے، اہداف کی نسبت سنجیدگی اور اپنے فیصلوں میں آزاد ہو، یعنی حقیقی آزادی و استقلال سے آراستہ ہو اور کسی قسم کی سیاسی، علمی، عسکری، ثقافتی، اقتصادی وابستگی کا شکار نہ ہو، امت اپنی تقدیر خود لکھے، اپنے فیصلے خود کرے، اپنی راہ و روش کو خود معین کرے، کوئی غیر اس پر اپنی مرضی مسلط نہ کرسکے، یہ اس کا فطری حق اور دینی ذمہ داری ہے۔

اس فطری و انسانی حق و ضرورت کو دین اسلام میں بہت اہتمام کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، قرآن کریم کی کئی آیات صراحت کے ساتھ امت مسلمہ کے استقلال اور غیر وابستگی کے نظریہ اور حکم کو بیان کر رہی ہیں۔ اسلام کی نظر میں استقلال و آزادی جہاں ایک حق ہے، وہیں مسلمانوں کیلئے حکم و ذمہ داری بھی ہے کہ وہ اپنے مفادات و اہداف کو کسی بھی غیر الٰہی قدرت کے ساتھ وابستہ نہ کریں۔

قرآن کریم میں ارشاد خداوندی ہے: “وَلَن يَجعَلَ اللَّهُ لِلكافِرينَ عَلَى المُؤمِنينَ سَبيلاً۔” “اور ہرگز اللہ کفار کو مومنین پر غلبہ و تسلط عطا نہیں کریگا۔”(سورہ نساء آیت ۱۴۱) علم دین کی اصطلاح میں اس قانون کو نفی سبیل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ تکوینی قانون کی حیثیت سے اس آیت کے دو معنی لئے جا سکتے ہیں:
۱۔ اگر مومنین ایمان کی تمام شرائط پر عمل پیرا ہوں تو کبھی کفار ان پر غالب نہیں ہوسکتے۔
۲۔ اس کائنات کی سرنوشت اور عاقبت مومنین کے ہاتھوں میں ہے۔
بطور حکم تشریعی بھی اس آیت سے دو معنی نکلتے ہیں:
۱۔ اسلام میں کوئی ایسا حکم موجود نہیں، جو مسلمانوں پر کسی بھی جہت سے اغیار کے مسلط ہونے کا سبب بنے۔
۲۔ مسلمانوں کا وظیفہ ہے کہ کسی بھی میدان میں کوئی ایسی پالیسی یا روش نہ اپنائیں، جس کے نتیجہ میں اغیار و کفار ان پر غلبہ پا سکیں۔

یعنی نہ ہی اللہ تعالیٰ نے دین اسلام میں کوئی ایسا حکم قرار دیا ہے، جو مومنین کو غیر دینی قوتوں اور کفار کے سامنے بے بس اور کمزور کرے اور نہ ہی مومنین کو اس بات کی اجازت ہے کہ کوئی ایسا اقدام اٹھائیں، جس کے سبب کفار کے آگے ذلیل و رسوا ہوں، ان کے آگے ہاتھ پھیلائیں، ان کے فرمان پر لبیک کہیں، اپنی داخلی و خارجہ پالیسی ان سے حکم کے مطابق تیار کریں، اپنی ثقافت، اقتصاد، علمی ترقی، سیاست غرض کسی بھی میدان میں ان کے محتاج نہ ہوں۔ اسی طرح اگر کہیں ضعف و کمزوری ہے، تو ایسا لائحہ عمل ترتیب دیا جائے، جو مستقبل میں انہیں کفار سے بے نیاز کر دے۔

نیز دوسری جانب یہ آیات، الہیٰ وعدہ کی جانب اشارہ کر رہی ہیں کہ اگر مومنین اللہ کے راستے پر استقامت دکھائیں، اپنے عمل و کردار سے ایمان کی تمام شرائط و تقاضوں کو پورا کریں، تو خدا ہرگز ان پر اغیار کو مسلط نہیں ہونے دے گا، بلکہ انہیں غالب و کامیاب قرار دے گا۔ نیز مومنین کو وعدہ دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی اس تحریک اور اس راہ میں استقامت کو بے نتیجہ نہ سمجھیں، بلکہ یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ اس کائنات کی سرنوشت و عاقبت مومنین و متقین کے ہاتھوں میں ہے۔ اس کائنات پر بالآخر عدل کا نظام قائم ہوگا، لہٰذا اس روشن دن کیلئے اپنی کوششوں کو تیز کریں، اس تکوینی نتیجہ کو قرآن کی دیگر آیات سے بھی سمجھا جا سکتا ہے۔

1947ء میں برصغیر کے مسلمانوں نے اسی حکم الہیٰ پر عمل کرتے ہوئے انگریزوں کے تسلط سے ایک زمین کا ٹکرا آزاد کرایا اور مملکت خداداد پاکستان معرض وجود میں آیا، جو عالم اسلام میں ایک بہت بنیادی اور اہم پیشرفت تھی، لیکن یہ آزادی کا ایک مرحلہ تھا، ابھی بہت سے مراحل باقی ہیں، اللہ کے راستے میں توقف و ٹہراؤ نہیں ہے۔ ہم نے زمین کا ٹکرا تو حاصل کر لیا، لیکن ابتداء سے آج تک ہماری اقتصاد، ہماری سیاست، ہماری ثقافت، ہماری علمی ترقی روز بروز کفار و اغیار کے پنجوں میں یرغمال تر ہو رہی ہے۔ ہمارے سیاسی فیصلے، ہمارا تعلیمی پلان، ہمارے ثقافتی اور معاشرتی اقدار، ہمارا عسکری استقلال، علم کی دنیا میں ترقی ہر آئے دن کمزور ہو رہی ہے اور ہر آنے والا دین ہمیں محتاج تر بنا رہا ہے۔

یہاں وابستہ نہ ہونے سے مراد قطعاً یہ نہیں ہے کہ ہم دنیا سے تعلق ختم کر دیں اور نہ ہی یہ مراد ہے کہ دنیا کی ترقی سے فائدہ حاصل نہ کریں، بلکہ اس حوالے سے بھی واضح حکم ہے کہ حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے، جہاں سے ملے لے لو، لیکن ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے، کہیں حکمت کے نام پر ذلت و رسوائی نہ دی جا رہی ہو۔ ماضی کی طرح کہیں تعقات و تجارت کے بہانے اغیار ہم پر غالب نہ آجائیں۔ لہٰذا حکم قرآن کے سبب ہماری بطور ملت اسلامیہ یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے ملک کو استکبار کے شکنجے سے آزاد کرائیں، اس حقیقی آزادی کی جانب سفر کریں، جس کا اللہ نے وعدہ کیا ہے اور اس کے تحقق کی ذمہ داری ہمارے کندھوں پر عائد کی ہے۔ اگر ہم نے الٰہی وعدہ پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے ملک کو ہر میدان میں خودکفیل بنانے کی کوشش کی تو یقیناً “اِن تَنصُرُوا اللهَ یَنصُرکُم” (سورہ محمد آیت ۷) کا مصداق قرار پا کر دنیا و آخرت میں سرخرو ہوں گے۔