پاک فوج کیخلاف پراپیگنڈا: پی ٹی آئی کے مزید رہنماؤں کی گرفتاری کا امکان

وفاقی حکومت نے پاک فوج کیخلاف پراپیگنڈا مہم کی نئی تحقیقات شروع کردیں۔ وزارت داخلہ چھان بین کے لئے اسلام آباد پولیس، رینجرز اور ایف سی کی مدد لے گی۔

ذرائع وزارت داخلہ کے مطابق ضرورت پڑی تو گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی اور اس سلسلے میں پی ٹی آئی کے بعض مقامی رہنماؤں کی گرفتاریاں بھی ہوسکتی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق زبان سے نکلی بات کے پيچھے کس کس کے دماغ ملوث ہيں۔ اب ايک ايک کی چھان بين ہوگی۔

وزارت داخلہ نے سويلين سيکيورٹی اداروں کو ہدايت کی ہے کہ ضرورت پڑنے پر فوری گرفتاری کی جائے۔ تحقيقات کيلئے اسلام آباد پوليس سميت رينجرز اور ايف سی کی مدد لے گی۔

ذرائع کے مطابق رہنما تحریک انصاف شہباز گل کی گرفتاری کی کڑیاں بھی اِسی سے ملتی ہیں۔

واضح رہے کہ تحریک انصاف کے رہنما شہبازگل نے پولیس کی تحویل میں انکشاف کیا کہ ان کا موبائل ان کے ڈرائیور کے پاس ہے اور اس میں مقدمے کے حوالے سے بہت سا مواد موجود ہے۔

اسلام آباد پولیس کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے کہ پولیس اس کیس سے جڑے تمام تر شواہد و ثبوت اکٹھے کررہی ہے، شہباز گل کے ڈرائیور کے گھر چھاپے اور گرفتاری کا عمل قانونی ہے۔

پولیس حکام نے کہا کہ کیس کا دائرہ کار اسلام آباد کے علاوہ دیگر صوبوں تک بھی پھیلایا جاسکتا ہے، جہاں کہیں بھی قانونی کاروائی کی ضرورت پڑی پولیس اپنا کام کرے گی، اور جو لوگ غلط خبریں اور عوام میں اشتعال پھیلا رہے ہیں ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

دسرے جانب اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ افواج پاکستان کے خلاف زہریلے پراپیگنڈے کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے، پورا پاکستان اس کی مذمت کرتا ہے۔

قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے رکن شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں پاک فوج پر جن لوگوں نے حملہ کیا وہ تو چھپ کر یہ کارروائی کرتے ہیں لیکن یہاں پر افواج پاکستان کے خلاف سرعام ہرزہ سرائی اور پراپیگنڈہ کیا جارہا ہے.

انہوں نے کہا کہ اس کے خلاف اس ایوان کو واضح موقف اپنانا چاہیئے جس پر اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ افواج پاکستان کے خلاف زہریلا پراپیگنڈا کیا جارہا ہے، اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، پورا پاکستان اور یہ ایوان اس کی مذمت کرتا ہے۔

دسرے جانب مولانا حافظ طاہر اشرفی کا کہنا ہے کہ قوم مسلح افواج کےساتھ کھڑی ہے، فوج اور قوم میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تقسیم پیدا کرنے میں بیرونی قوتیں شامل ہیں۔

چیئرمین پاکستان علماء کونسل طاہر اشرفی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ شہباز گل نے اپنی حدود سے بہت زیادہ تجاوز کیا ہے، شہباز گل کے بیانیے کے ساتھ اس کی اپنی پارٹی بھی کھڑی نہیں ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ پرویز الہٰی نے اور پاکستان کے ہر فرد نے اس کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ جنہوں نے شہداء پر بات کی اس سب کی تحقیق ہونی چاہیے، سیاست کریں لیکن سیاسی کارکنوں کو خیال ہونا چاہیے کیا کہہ رہے ہیں، کیا کر رہے ہیں۔

طاہر اشرفی نے مزید کہا کہ کل ہمارے اقلیتی بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے دن منایا جائے گا، اقلیتوں کا خیال رکھنا ہماری ذمے داری ہے