امن مذاکرات کی کامیابی کا انحصار ٹی ٹی پی کے طرز عمل پر ہوگا،پاکستانی سفیر

عبدللہ جان صابر

افغانستان کے لیے پاکستان کے خصوصی نمائندے محمد صادق نے کہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ امن مذاکرات کی کامیابی کا انحصار کالعدم گروپ کے رویے پر ہے۔انہوں نے کہا کہ امن مذاکرات کی کامیابی کے ثمرات دونوں فریقین کو ملیں گے۔

اسلام آباد میں ’افغانستان میں ابھرتی ہوئی صورتحال: بین الاقوامی اور قومی تناظر‘ کے عنوان سے ایک کتاب کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئےپاکستانی سفیر نے کہا کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ پاکستان کے مذاکرات میں افغان طالبان مددگار ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امن مذاکرات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں، ان کی کامیابی کا انحصار ٹی ٹی پی کے طرز عمل پر ہوگا۔

افغانستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے محمد صادق نے طالبان حکومت پر دباؤ ڈالنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ‘گزشتہ سال اگست کے بعد سے بین الاقوامی برادری کی جانب سے اجتماعیت کے پُر زور مطالبات نے امارت اسلامیہ کی قیادت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

محمد صادق نے بین القوامی برادری سے پاکستان کے دیرینہ مطالبے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ‘بین الاقوامی برادری کی توجہ دنیا میں کہیں اور رونما ہونے والے واقعات کی وجہ سے افغانستان کی سنگین انسانی اور معاشی صورتحال سے نہیں ہٹانی چاہیے’۔

دریں اثنا افغانستان میں پاکستان کے سفیر منصور احمد خان نے تقریب سے خطاب میں کئی عوامل پر روشنی ڈالتے ہوئے وضاحت کی کہ طالبان کے قبضے کے بعد سے ملک میں امن اور سلامتی میں نمایاں بہتری آئی ہے جہاں کئی علاقوں میں رسائی آسان ہوچکی ہے۔

معیشت کے بارے میں بات کرتے ہوئے منصور احمد خان نے کہا کہ امریکی انخلا کے بعد افغان معیشت محدود ہو چکی ہے، 12 سے 13 ارب ڈالر کے ذخائر کی عدم دستیابی کے ساتھ اس وقت ملک کے پاس صرف 3 ارب ڈالر ہیں جو کہ واضح فرق ہے’۔

اس موقع پر افغانستان کے سابق نائب وزیر خارجہ جاوید لودین نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کا اقتدار سنبھالنا ملکی تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے۔انہوں نے کہا کہ خطے کا ایک مشترکہ نظریہ ہے اور فعال مشغولیت کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم کی ضرورت ہے۔

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کا علاقائی نقطہ نظر قابل تعریف ہے اور اس سے پاکستان کے نزدیک اس مسئلے کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس خطے کا افغانستان کے ساتھ مشترکہ ماضی ہے اور اب مشترکہ مستقبل بھی ہونا چاہیے جس کا نظریہ اتحاد اور امن پر محیط ہو۔