اسلام کبھی بھی زبردستی مذہب کی تبدیلی کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا

وفاقی وزیر مذہبی امور مفتی عبدالشکور نے کہا ہے کہ اسلام انسانیت کا احترام کرنے والا مذہب ہے اور یہ کبھی بھی دوسرے مذاہب اور عقائد کے پیروکاروں کی زبردستی مذہب کی تبدیلی کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا.

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک امن پسند اور اقلیت دوست ملک ہے، اقلیتوں کو وہ تمام حقوق ملنے چاہئیں جو ایک مثالی معاشرے میں میسر ہوتے ہیں۔

11 اگست کو منائے جانے والے اقلیتوں کے دن کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ اسلام کی تعلیمات کے مطابق انسانیت کے بنیادی اصولوں کے خلاف کوئی قاعدہ یا ضابطہ نہیں ہے.

انہوں نے کہا کہ معاشرے کے بڑے طبقات کی طرح اقلیتوں کو بھی مساوی شہری ہونے کے ناطے اس معاشرے میں مکمل حقوق حاصل ہیں جن کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے، اسی وجہ سے سرکاری سطح پر پورے ملک میں بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لئے حکومت نے 11 اگست اقلیتوں کا دن قرار دیا ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو اس کی اہمیت سے آگاہ کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ ایک اسلامی ملک ہونے کے ناطے اس میں بسنے والی اقلیتوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے حکومت پوری طرح پرعزم ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت آئین اور ملک میں مروجہ قوانین فراہم کرتے ہیں۔ اقلیتی برادریوں کو زندگی کے ہر شعبے میں شمولیت کے وسیع مواقع فراہم کرنے سے ملک خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوگا۔

مفتی عبدالشکور نے کہا کہ اسلام خدا تعالیٰ کی وحدانیت کی تعلیم دیتا ہے اور یہ کبھی بھی دوسرے مذاہب اور حقائق کے پیروکاروں کی زبردستی تبدیلی کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا، یہ اسلام کا دائمی اصول ہے کہ اسلام میں کوئی جبر نہیں ہے.

انہوں نے مزید یہ کہ اسلامی ریاست کا اقلیتوں کے عقیدے اور عبادت سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ شریعت کی حکمت عملی ہے جو غیر مسلموں کو آزادی کے ساتھ اپنے مذہب اور عقائد پر عمل پیرا ہونے کی اجازت دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک اسلامیہ ان کے عقیدے اور عبادت میں مداخلت نہیں کرتی، اقلیتوں کے ذاتی معاملات بھی قانون کے مطابق طے کئے گئے ہیں، ان پر اسلامی قانون نافذ نہیں ہوتا اور انہیں وہ تمام حقوق ملنے چاہئیں جو ایک مثالی معاشرے میں حاصل ہوتے ہیں.

انہوں نے کہا کہ ہمیں چاہیئے کہ ہم قائداعظم کے نظریہ اور اسلامی تعلیمات کو فروغ دے کر پرامن معاشرہ قائم کریں۔