سوات میں طالبانائزیشن کی حقیقت اور افواہیں؟

عبداللہ جان صابر

خیبرپختونخوا کے علاقے سوات میں پیر کے روز مسلح افراد کے ہاتھوں فوجی اور پولیس افسر کے اغوا اور ویڈیوجاری ہونے کے بعد سیاستدانوں اور صحافیوں نے سوشل میڈیا پر سوالات اٹھائے ہیں کہ اداروں کے وجود کے باوجود طالبان کیسے آئے؟

کچھ سوشل میڈیا صارفین اور بالخصوص خیبر پختونخوا میں بدامنی کے خواہاں عناصر نے تو ایسے کمپاین چلائیں جیسا پورا خیبرپختونخوا طالبان کے قبضے میں ہو جن کا بنیادی مقصد امن مذاکرات کو سپوتاژ کرنا اور عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسانا تھا۔

سوات میں طالبانائزیشن ‏‎کےحوالے سے گردش کرنے والی ساری تصویریں اور ڈرون شاٹس پرانے ہیں، ان کی پراپیگنڈا وڈیوز سے کاٹی گئی ہیں۔لیکن یہاں بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں کوئی بھی یہ تکلیف نہیں کرتا کہ جعلی اور تصدیق شدہ خبر میں پہچان کرسکے۔

دراصل افغانستان میں امن مذاکرات کے دوران ٹی ٹی پی اہلکاروں کو یہ دعوت دی گئی تھی کہ وہ پاکستان میں موجود اپنے خاندانوں کیساتھ ملاقات کرسکتے ہیں لیکن شرط یہ ہوگی کہ انکے پاس اسلحہ نہیں ہوگا اور نہ کسی مشکوک سرگرمی کا خصہ ہونگے۔

اسی اجازت نامے کی بنیاد پر افغانستان جاکر بیٹھنے والے ملیٹنٹس میں سے کچھ واپس آئے ہیں لیکن انہوں نے اپنے ساتھ اسلحہ بھی رکھا تھا جوکہ غیرقانونی ہے۔مقامی ذرائع سے پولیس کو اطلاع ملی کہ یہاں دہشتگرد ازادانہ گھوم رہے ہیں۔اسی اطلاع پر پولیس ڈی ایس پی پیرسید کاروائی کرنے موقع پر پہنچ گئے۔

پولیس کو دیکھتے ہوئے ٹی ٹی پی اہلکاروں نے فائرنگ شروع کردی جس میں ڈی ایس پی زخمی ہوئے اور تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے پولیس کو گھیرے میں لے لیا گیا۔وہاں پر موجود فوجی میجر بھی اپنے ایک اہلکار کیساتھ پہنچا۔ذرائع کے مطابق فوجی افسر صرف معاملے کو جانچنے کی غرض سے گیا تھا اسلئے نفری ساتھ لیکر نہیں گئے۔

طالبان نے میجر احسن اور پولیس اہلکاروں کو حراست میں لینے کے بعد ویڈیو بنائی اور اسی طرح ہر کسی کو ایک منفی خبر مل گئی۔سوشل میڈیا پر ایسا ماحول بنایا گیا جیسے پورے خیبرپختونخوا پر طالبان کا قبضہ ہے۔

جاری کی گئی ویڈیو میں طالبان خود لوگوں سے کہتے رہے کہ آکر ڈی ایس پی صاحب کو لے جائیں، وہ زخمی ہیں، لیکن لوگ اور پولیس والوں کے سابقہ تلخ تجربات کی وجہ سے وہ جانے سے کتراتے رہے.بعد میں جب مقامی لوگ مطمئن ہوگئے تو وہ زخمی ڈی ایس پی کو ہسپتال لیکر گئے۔

سوات کے صحافی شہزاد عالم کی آڈیو کلپ اور ایمل ولی کی شیئر کی ہوئی پولیس اور طالب کی گفتگو کی آڈیو کلپ میں کہہ رہے ہیں کہ فوجی اور پولیس والے ہمارے بھائی ہیں. ہمارے مذاکرات چل رہے ہیں، سیز فائر ہے اس لئے کوئی مسلح کاروائی نہیں ہورہی۔

دوسری جانب انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا (کے پی) معظم جاہ انصاری کا کہنا ہےکہ یہ تاثر درست نہیں کہ صوبے میں طالبان نے قدم جمالیے ہیں۔ آئی جی خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ صوبہ گزشتہ 20 سال سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے، 20 سال سے یہاں دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے، صوبے میں تشویش ناک صورت حال نہیں اور نہ ہی کوئی خطرے والی بات ہے۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے بعض اہم سیاستدانوں نے بھی بغیر کسی تحقیق کے اس واقعے کے حوالے سے منفی پراپیگنڈوں میں بھرپور حصہ لیا ہے جن کی وجہ سے نہ صرف عوام میں خوف پھیلا ہے بلکہ دنیا کو بھی ایک منفی تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے