اپریشن کے بعد برکی زبان کی کو شدید خطرات لاحق

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

جنوبی وزیرستان کے علاقہ کانیگرم میں برکی زبان کی ترویج اوراس کے تحفظ کے حوالے سے دو روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ تربیتی ورکشاپ میں برکی قبیلے سے تعلق رکھنے والے 22 اساتذہ نے شرکت کی۔

ماسٹر ٹرینرز نے برکی زبان کے تلفظ کی درست ادائیگی اور رسم الخط کے بارے میں ٹریننگ دی۔ ٹریننگ کے دوران شرکاء میں برکی زبان لکھی گئ کتابیں بھی تقسیم کردی گئیں۔

پشتو اکیڈمی پشاو یونیورسٹی کے ڈائریکٹر نصراللہ وزیر نے اس حوالے سے کہا کہ پہلی بار صوبائی حکومت اور پشاور یونیورسٹی کے اشتراک سے برکی زبان کو محفوظ بنانے کےلئے موثر اقدامات اٹھانا شروع کردیے ہیں اور برکی زبان کو نصاب میں بھی شامل کیا جائے گا تاکہ آنے والی نسل اپنی زبان سے اشنا ہو۔

مقامی لوگوں نے کہا کہ راہ نجات اپریشن کے بعد برکی زبان کی بقاء کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں کیونکہ اپریشن سے پہلے کانیگرم میں ہزاروں افراد پر مشتمل آبادی ریائش پزیر تھی لیکن راہ نجات اپریشن سے ساری آبادی ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان اور کراچی منتقل ہوگئ۔

مقامی لوگوں کے مطابق اگربرکی زبان کے تحفظ کے لئے اقدامات نہ اٹھائے گئے تو آنے والے سالوں میں برکی زبان ختم ہوجائے گی اور برکی زبان پر مقامی پشتو زبان حاوی ہوجائے گی۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ جنوبی وزیرستان کانیگرم میں رہنے والے اپنی زبان کے ساتھ ساتھ پشتو زبان پر بھی مکمل عبور رکھتے ہیں اور دونوں زبانیں روانی سے بولتے ہیں۔