وزیراعظم کا سیلاب سے متاثرہ ڈی آئی خان اور ٹانک کا دورہ

وزیر اعظم نے خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک کے دورے کے موقع پر متاثرین کے مسائل فوری طور پر حل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، وفاقی حکومت سیلاب میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کی 10 لاکھ روپے سے مالی معاونت کر رہی ہے، خیبر پختونخوا حکومت بھی باقی صوبوں کی طرح 8 لاکھ سے بڑھا کر اس مالی امداد کو 10 لاکھ کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ کچے اور پکے مکانوں کی تقسیم ختم کرکے منہدم ہونے والے مکانوں کو یکساں طور پر 5 لاکھ امداد دے رہے ہیں، سیلاب متاثرین کو فوری طور پر امداد کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ حکومتِ خیبر پختونخوا کی سیلاب متاثرین کیلئے امدادی کاروائیاں قابلِ تحسین ہیں، سیاست سے بالا تر ہوکر ہمیں اپنے پاکستانی بھائیوں کی مل کر مدد اور بحالی یقینی بنانی ہے۔

انہوں نے خیبر پختونخوا کے سیلاب متاثرین سے ملاقات کے دوران انکی بحالی میں حکومت کی طرف سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت یا علاقے سے ہو، سیلاب متاثرین کی بحالی اور خدمت، ہم سب کا قومی مشن ہے۔ پاکستان ہمارا دیس ہے جس کی ہمیں مل کر خدمت کرنی ہے۔

اس موقع پر وزیرِ اعظم کو پی ڈی ایم اے اور این ڈی ایم اے انتظامیہ کی طرف سے امداد اور بحالی کے کام پر تفصیلی بریفنگ دی گئی.

ڈپٹی کمشنر ڈی آئی خان نے وزیر اعظم کو جاری امدادی پروگرام کے بارے میں آگاہ کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب، امیر جمیعتِ علماءِ اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان اور صدر مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا انجینئر امیر مقام بھی وزیرِ اعظم کے ہمراہ تھے.

دسری جانب حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں تیار کھڑی کھجور، فصلوں اور پھلوں کے باغات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے تیار کروڑوں روپے کی فصلیں خراب ہوچکی ہیں۔

جفاکش اور محنت کش طبقہ جو سارا سال زمینوں کی دیکھ بھال کرتا ہے اور اپنی جمع پونجی خرچ کرتا ہے لیکن بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے ان کی ساری محنت برباد ہوگئی ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان کی کھجور اندرون ملک کی طرح بیرون ملک بھی بہت پسند کی جاتی ہے مگر امسال بارشوں کی وجہ سے کھجوروں کے باغات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

اس حوالے سے صوبائی حکومت، ضلعی انتظامیہ، ایم این اے سردار علی امین خان گنڈہ پور اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ بارشوں و سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی عوام کی دادرسی کی جائے اور ان کی مالی امداد کی جائے تاکہ ان کے نقصان کا ازالہ ہوسکے۔