امن مذاکرات میں ڈیڈلاک کا تاثرغلط ہے، بیرسٹر محمد علی سیف

عبدللہ جان صابر

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں12 رکنی پاکستان کے پشتون جرگے نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کا ایک اور دور مکمل کرلیا۔مذاکرات کے اس تیسرے دور میں فاٹا انضمام کی واپسی اور دیگر امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی ہے۔

قبائلی عمائدین کی قیادت کرنے والے بیرسٹر محمد علی سیف نے مذاکرات میں ڈیڈلاک کا تاثر مسترد کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ تین روزہ مذاکرات سازگار ماحول میں ہوئے، دونوں فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے تحفظات پر بات چیت کی گئی۔

بیرسٹر محمد علی سیف نے وضاحت پیش کی کہ مذاکرات اس وقت ناکام ہوں گے جب دونوں میں سے کوئی ایک فریق اس عمل کو ختم کرنے کا فیصلہ کرے۔انہوں نے کہا کہ لیکن ایسا نہیں ہے، ہم نے ٹی ٹی پی اور امارت اسلامیہ کے عہدیداروں کے ساتھ بات چیت کی ہے۔

کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے سابق فاٹا کے اسٹیٹس کو بحال کرنے کے مطالبے پر ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے دونوں فریقین کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے جس سے حل کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے۔

بیرسٹر محمد علی سیف نے بتایا تھا کہ ٹی ٹی پی نے قبائلی علاقوں کی سابقہ حیثیت کی بحالی کا مطالبہ دہرایا ہے لیکن تاحال کوئی ختمی فیصلہ نہیں ہوا ہے بلکہ امن مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے اور حکومت پاکستان فاٹا کے حوالے سے اپنے موقف پر قائم ہے۔

یاد رہے کہ امن مذاکرات میں حکومت پاکستان اور قبائلی عوام ایک پیج پر ہے جن کا مشترکہ مقصد قبائلی اضلاع کی ترقی اور امن ہے۔امن مذاکرات میں افغان طالبان کا کردار بھی قابل ستائش ہے کیونکہ اس عمل وہ ثالث کا کردار ادا کررہے ہیں۔