سول اور ملٹری شہید؟

عبدللہ جان صابر

پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس لعل جان خٹک اور جسٹس شاہد خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نےآرمی پبلک سکول میں شہید ہونے والے بچوں کے والدین کی جانب سے ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کے خلاف دائر درخواست خارج کردی اور اس پیٹیشن کو غیرضروری قرار دے دیا ۔میرے خیال میں عدالت کا یہ فیصلہ قابل ستائش ہے کیونکہ اے پی ایس میں سول کیساتھ ساتھ ملٹری کے لوگ بھی شہید ہوچکے تھے اور تمام شہداء کو ریلیف پیکج سمیت دیگر مراعات بھی دی گئیں ہیں۔

اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ شہداء پیکج شہید کے سر کی قیمت ہے بلکہ یہ حکومت کی طرف سے ایک داد رسی ہوتی ہے کہ انکے ورثاء کو یہ احساس ہو کہ مٹی کیلئے شہید ہونے والون کیساتھ حکومت اور سیکیورٹی ادارے کھڑے ہیں۔جنگ آزادی سے لیکر آج تک ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے پاک سرزمین کیلئے شہادتیں دی ہیں جنکی فیمیلز اپنے شہیدوں پر آج بھی فخر کرتی ہیں۔

لیکن آ رمی پبلک سکول پشاور کے واقعے کے بعد کچھ شرپسند عناصر نے شہادت کو بھی متنازعہ بنایا ہے اور اسکو بنیاد بناکر بار بار پاکستانی عوام کو ورغلایا جاتا ہے حالانکہ اللہ تعالی نے شہید کے مرتبے کو سب سے اعلی قرار دیا ہے۔اسی جذبے کو لیکر پاکستانی عوام میں سے سب تگڑے لوگ پولیس، آرمی، ایف سی اور دیگر سیکیورٹی اداروں میں بھرتی ہوتے ہیں تاکہ اپنے بچوں کیلئے حلال رزق بھی کمائے اور ساتھ ساتھ اللہ تعالی کی خوشنودی بھی حاصل کرسکیں۔

اگر سال ٢٠٠٠ کے بعد خیبر پختونخوا کے حالات کا تجزیہ کیا جائے تو یہاں دہشتگردوں کے سب بڑے گروپس فعال ہوئے بالخصوص سال ٢٠٠٦ سے لیکر سال ٢٠١٧ تک دہشتگردوں کے خلاف بڑے بڑے فوجی آپریشنز کئے گئے جن میں کئی فوجی اور ایف سی کے جوان شہید ہوگئے،خود کش دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں میں سینکڑوں کی تعداد میں پولیس اہلکار اور درجنوں عام عوام کی شہادتیں بھی ہوئیں جبکہ ہزاروں کی تعداد میں زخمی بھی ہوئے۔

ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ حکومت اور سیکیورتی ادارون نے کبھی بھی سول اور ملٹری شہید میں فرق نہیں کیا لیکن بدقسمتی سے پاکستان کے اندر سے کبھی کبھار نفرت کی ایسی آوازیں اٹھ جاتی ہیں جن میں سول شہید کو شہادت کا درجہ دیا جاتا ہے جبکہ سیکیورتی اہلکاروں کی شہادت کو ڈیوٹی سمجھی جاتی ہے۔کیا سیکیورتی اہلکار پاکستانی نہیں ہیں؟ کیا انکے ماں باپ،بیوی بچے یا بہن بھائی نہیں ہوتے؟

پاک فوج، پولیس، ایف سی اور دیگر سیکیورٹی اہلکاروں کے بھی ارمان ہوتے ہیں، انکے لئے بھی کوئی منتظر ہوتا ہے،انکے بچوں کو بھی باپ کا سایہ چاہیئے ہوتا ہے،انکے والدین کو بھی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن مجال ہے کہ کبھی شہید سیکیورٹی اہلکاروں کے ورثاء عدالت گئے ہو اور اپنے شہیدوں کیلئے انصاف مانگا ہو کیونکہ انکو یہ احساس ہے کہ انکے پیارے اس قوم کی حفاظت اور پرامن پاکستان کیلئے شہید ہوچکے ہیں۔

پشاور ہائی کورٹ میں دائر اے پی ایس پیٹیشن کے حوالے سے اٹارنی جنرل نے بھی عدالت کو بتایا کہ کہ فرض کرے کل کو کوئی آئے اور عدالت میں درخواست دے کہ میرا بیٹا, بھائی,باپ یا شوہر بارڈر پر ڈیوٹی دیتے وقت شہید ہوگیا ہے اور مذاکرات ہورہے ہیں تو اس میں ہمیں شامل کیا جائے تو پھر کیا ہوگا؟ لہذا اس وقت ہر کسی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ امن مذاکرات کو کامیاب کروانے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ کل اے پی ایس جیسا کوئی اور حادثہ نہ ہو۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔