پاکستانی علمإ کرام کے دورہ افغانستان پر بین الاقوامی میڈیا کا ردعمل

عبداللہ جان صابر

افغان حکومت کی دعوت پر پاکستان کے جید علما کرام نے افغانستان کا دورہ کیا جو اج بھی جاری ہے۔افغان طالبان کو معاشی، معاشرتی، اقتصادی، تعلیم اور دیگر امور میں مشاورت چاہئے تھی جسکیلئے پاکستان حکومت سے علما وفد کیلٸے درخواست کی گئی تھی لیکن بدقسمتی سے اس دورے کو متنازعہ بنانے کیلئے پاکستان اور افغانستان کے مخالف عناصر نے کئی چال چلائے۔

سوشل میڈیا اور دیگر بین الاقوامی میڈیا فرمز سے نہ صرف اس دورے کے بارے میں منفی پراپیگنڈے کئے گئے بلکہ اس کو بالخصوص امن مذاکرات کیساتھ بھی لنک کیا،حالانکہ دورے کے شیڈول میں یہ صرف ایک جز تھا۔دیگر میڈیا پلیٹ فارمز سمیت وائس اف امریکہ نے بھی اس موضوع پر کئی پروگرامز منعقد کروائے۔

رحمان بونیری کے پروگرام ´´ہیلو“ میں اس دورے پر ایک گھنٹے کی بحث کی گئی جس میں شاہ محمود میاخیل، واحد فقیری اور مشتاق یوسفزے بطور تجزیہ کار شریک تھے۔مکمل پروگرام کا سیاق و سباق کچھ یوں تھا۔۔ امن مذاکرات دراصل پاک فوج نے شروع کئے ہیں لیکن پاکستان کے جرگوں میں شامل زیادہ تر لوگ مخلص نہیں ہیں،اس میں پاکستان حکومت سے مخلص لوگ شامل ہونے چاہیئے۔اس وقت پاکستان کو درپیش چیلنجز میں تحریک طالبان پاکستان کا دوبارہ منظم ہونا شامل ہے۔

ٹی ٹی پی اس وقت پہلے سے زیادہ مضبوط ہوچکے ہیں۔نورولی محسود نے اپنی تنظیم کو مکمل طور پر منظم اور پہلے سے زیادہ فعال کیا ہے. پاکستان حکومت اور فوج دین کو حربے کیلئے استعمال کررہے ہیں اسلئے علما کا وفد بھی بھیجا ہے۔افغانستان اس وقت مکمل طور پر پاکستان کے کنٹرول میں ہے،پاکستانی علما اپنے ملک میں انتخابات اور جمہوری عمل پر یقین رکھتے ہیں لیکن افغانستان میں انکو شرعی نظام چاہیئے

پاک فوج کے مشران نے افغانستان کے نام پر عرب ممالک سے فنڈز اور دیگر فائدے حاصل کئےدوسرا یہ کہ علما بیجنے کے پیچھے پاکستان کا یہ راز بھی ہے کہ پاکستان دنیا کو پیغام دیں کہ افغانستان میں اس وقت بھی دہشتگرد موجود ہیں اگر آج یہ دہشتگرد امن مذاکرات کیلئے راضی نہیں ہوتے تو پھر امریکہ کو اجازت ہے کہ ٹی ٹی پی کیخلاف اسلام آباد کا راستہ استعمال کریں اس سے پہلے بھی ایسا ہوچکا ہے یعنی پاکستان بحران پیدا کرنے کا ماہر ہے اور پھر اس سے استفادہ بھی کرسکتا ہے۔ اصل میں علما وفد کا مقصد افغانستان میں افغان طالبان، داعش اور دیگر تنظیموں کو اکٹھا کرکے مزید مضبوط کرنا ہے

پاک فوج ۴۰ سال تک یہ بزنس کرچکا ہے لیکن اب حالات الگ ہےاکستانی مدرسوں میں دہشتگرودوں کو باقاعدہ تربیت دی گئی ہے جو آج پاکستان کیلئے بھی مسلہ بن چکا ہےپاکستان تمام مدارس کو افغانستان کو شفٹ کرنا چاہتا ہے تاکہ بدنامی افغانستان کی ہو اور فائدہ پاکستان کو پہنچ جائےپاکستان کے جنرل فیض اور دیگر جنرلز نے کھلے عام افغانستان میں مداخلت کی ہے اور کررہے ہیں، انگریزوں نے بھی امان اللہ خان کی حکومت گرانے کیلئے دین کا ستعمال کیا تھا اور اج پاکستان بھی وہی پالیسی اپناچکا ہے“….

لیکن اگر حقیقت دیکھا جائے تو تاریخ اور زمینی حقائق پروگرام کے تجزے کے بالکل عکس ہے۔اول یہ کہ دورہ افغان حکومت کی دعوت پر کیا گیا۔حکومت پاکستان نے افغان وزارت خارجہ کی درخواست منظور کرلی اور باقاعدہ طور پر تمام مسالک کے جید علماء کرام کو افغان حکومت کا دعوت نامہ بھجوادیا۔تمام تر سفری سہولیات مکمل ہونے کے بعد علماء کرام کو اسلام اباد میں ٹی ٹی پی امن مذاکرات کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی اگرچہ دورے کا بنیادی مقصد یہ نہیں تھا۔

دوسرا یہ کہ پاکستان حکومت نے ہمیشہ افغانستان کے امن اور بحالی میں کنسٹرکٹیو رول ادا کیا ہے جسکی زندہ مثالیں موجود ہیں۔ا و آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کے سترہویں غیر معمولی اجلاس میں افغان عوام کیلئے امداد کی اپیل، اقوام متحد میں افغانستان کیلئے قرارداد پیش کرنا، افغان طلبا کیلئے وظائف،پانچ ارب روپے سے زائد مواد کی فراہمی، سیلاب اور زلزلہ زدگان کیلئے فوری امداد اور دیگر کئی ثبوت اس ضمن میں دنیا کے سامنے ہیں۔

دوسری طرف موجودہ افغان قیادت کو د نیا بھرمیں کوئی ملک تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔ حیرت انگیز امر یہ بھی ہے کہ چار کروڑ افغانیوں کے لئے سابق حکومت کا کوئی رکن جن میں حامد کرزئی اور اشرف غنی بھی شامل ہیں ، آواز اٹھانے کو تیار نہیں اور نہ ہی اس ضمن میں ان کی طرف سے کی جانے والی کوئی سنجیدہ کوشش نظر آ رہی ہے۔ اس سارے منظر نامے میں صرف پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس نے دلیری کے ساتھ نہ صرف دنیا بھر کے سامنے اپنے افغان بھائیوں کی مدد کے لئے آواز اٹھائی بلکہ انہیں یہ باور کرایا کہ اگر مشکل کی اس گھڑی میں ان کی مدد نہ کئی گئی تو آنے والے دنوں میں خطے میں ایک بہت بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔

لیکن کوئی بین القوامی میڈیا ادارے اس حقیقت کو تسلیم کرنا کیلئے تیار نہیں ہیں بلکہ یہ کوشش کی جارہی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو متنازعہ بنایا جائے تاکہ افغان عوام کیساتھ ساتھ خیبر پختونخوا کے قبائلی عوام بھی ایک بار پھر دہشتگردی کی جہنم میں دھکیل دیئے جائے تاکہ ان کا دوکان چلتا رہے۔