پولیو ٹیموں کو اضافی افرادی قوت اور وسائل

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پولیو ٹیموں کو اضافی افرادی قوت اور وسائل فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کاٹنلنگ انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان (ٹی آئی پی) کا دورہ کیا ہے، جہاں انہوں نے ایف ڈبلیو او کے قائم کردہ انسٹی ٹیوٹ کا افتتاح کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ٹی آئی پی پہنچنے پر لیفٹیننٹ معظم اعجاز اور میجر جنرل کمال اظفر نے آرمی چیف کا استقبال کیا، ٹی آئی پی کا مقصد تحقیق اور ترویج کو فروغ دینا ہے۔

پاک فوج کے سربراہ نے قومی ایمرجنسی آپریشن سینٹر کا بھی دورہ کیا، انہوں نے پولیو مہم کے انعقاد اور دیگر اقدامات کو سراہتے ہوئے حساس مقامات پر پولیو ٹیموں کیلئے محفوظ ماحول فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

آرمی چیف نے کہا کہ پولیو ٹیموں کو اضافی افرادی قوت اور وسائل فراہم کئے جائیں، پولیو سے پاک پاکستان کےلئے مؤثر کوشش کامیاب بنانے کی ضرورت ہے۔

دسرے جانب پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پختونخوا کے ضم اضلاع میں مرد اور خواتین اساتذہ سے پولیو کی اضافی ڈیوٹی نہ لینے کے احکامات جاری کر دیئے، پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس اعجاز انور پر مشتمل دو رکنی بنچ نے یہ احکامات جاری کیے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق دو سال قبل یکم فروری 2020 میں ضلع مہمند کی ضلعی انتظامیہ نے آرڈر جاری کیا تھا کہ ضلع مہمند کے مختلف پرائمری، مڈل اور ہائی سکولوں کے اساتذہ پولیو مہم کے دوران اضافی ڈیوٹی ادا کریں گے جس کے بعد مرد اور خواتین اساتذہ اضافی ڈیوٹی دینے لگے۔

ضلع مہمند انتظامیہ کے اس حکم کو ضلع مہمند کے 42 مرد اور خواتین اساتذہ نے پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

آئینی درخواست دائر کرنے والے آل ٹیچرز ایسوسی ایشن ضلع مہمند کے صدر مرجان علی کا کہنا تھا کہ ضلع مہمند انتظامیہ نے 2020 میں جو آرڈر جاری کیا تھا اس کے تحت سینکڑوں مرد اور خواتین اساتذہ اضافی ڈیوٹی دے رہے تھے جو کہ مشکل تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہمارا علاقہ دہشت گردی کی جنگ سے شدید متاثر ہوا ہے جس سے ہمارا تعلیمی نظام بھی شدید متاثر ہوا، بہت سے سکولوں میں ایک ایک استاد ہے جو سکول چلا رہے ہیں ایسے میں اضافی ڈیوٹی دینا مشکل ہے.

انہوں نے کہا کہ پولیو مہم کے دوران اضافی ڈیوٹی سے بچوں کی پڑھائی متاثر ہو رہی ہے لہذا اساتذہ سے مذکورہ اضافی ڈیوٹی لینا ناانصافی ہے۔

اضافی ڈیوٹی کے حوالے سے ضلع اورکزئی سے تعلق رکھنے والے قانونی ماہر محمد الیاس اورکزئی کا کہنا تھا کہ 2020 میں مہمند انتظامیہ نے جو آرڈر جاری کیا تھا وہ غیرقانونی اور انصاف کے برعکس تھا .

انہوں نے مزید کہا کہ فری کمپلسری ایجوکیشن ایکٹ 2012 کے سیکشن 19 (3) میں واضح ہے کہ اساتذہ سے اضافی ڈیوٹی نہیں لی جائے گی لیکن اس کے باوجود اساتذہ سے پولیو کی اضافی ڈیوٹی لی جا رہی تھی جس سے تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ قانون کے مطابق اساتذہ سے قدرتی آفات میں اضافی ڈیوٹی لی جا سکتی ہے لیکن نیشنل ڈزاسٹر منیجمنٹ ایکٹ 2010 میں پولیو وئرس قدرتی آفت کے زمرے میں نہیں آتا، اساتذہ سے پولیو سمیت دیگر اضافی ڈیوٹی کے حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ نے 2017 میں بھی درخواست گزار کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔

مرجان علی کا مزید کہنا تھا کہ حکومت پولیو ڈیوٹی کے لئے عملہ بھرتی کرے اور اساتذہ کو پولیو ڈیوٹی کے لئے جو معاوضہ دیا جاتا ہے وہ ان لوگوں کو دیا جائے جس سے بے روزگاری میں بھی کمی آئے گی۔

پشاور ہائیکورٹ میں دائر رٹ میں مہمند کی ضلعی انتظامیہ، پولیو پروگرام کے ضلعی افسران، محکمہ صحت ضلع مہند، سیکرٹری ہوم، سیکرٹری لاء، سیکرٹری ہیلتھ خیبر پختونخوا اور انچارج پولیو پروگرام ضم اضلاع کو فریق بنایا گیا تھا اور عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ عدالت ضم اضلاع میں اساتذہ سے پولیو کی اضافی ڈیوٹی نہ لینے اور متعلقہ حکام کو اس حوالے سرکلر جاری کرنے کے لیے احکامات جاری کرے۔

بعدازاں عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے اساتذہ سے اضافی ڈیوٹی نہ لینے کا حکم صادر کر دیا۔

محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے صوبے میں ایک اور پولیو کیس کی تصدیق کردی ہے. محکمہ صحت کے مطابق بچی کا تعلق شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی سے ہے۔

محکمہ صحت کا بتانا ہےکہ شمالی وزیرستان میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکاری والدین کی تعداد زیادہ ہے اور ایسے والدین کو بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے کے لیے آمادہ کیا جارہا ہے۔

رواں سال شمالی وزیرستان سے پولیو کے 7 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔