مردان میں قادیانی عبادت گاہ کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin

ڈپٹی کمشنر مردان عابد وزیر نے کہا ہے کہ بکٹ گنج میں متنازعہ زمین پر مرزائیوں کی عبادت گاہ نہیں بن رہی اور نہ ہی اس قسم کا کوئی منصوبہ زیر غور ہے، یہ تمام افواہیں ہیں اور عوام کسی قسم کے افواہ پرکان نہ دھرے۔

اپنے دفتر میں عمائدین بکٹ گنج، علماء اور میڈیا نمائندوں سے بات چیت کے بعد ٹی این این سے خصوصی گفتگو میں ڈی سی عابد وزیر کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی جانب سے قادیانیوں کی عبادت گاہ کی تعمیر کا کوئی منصوبہ نہیں ہے اور نہ ہی اس حوالے سےکسی کو ہدایت جاری کی گئی ہے، یہ محض ایک افواہ ہے جبکہ سیٹیزن پورٹل پر جو بھی کوئی درخواست دائر کردیتاہے تو وہ خودبخود متعلقہ انتظامیہ کو آجاتا ہے لیکن اس درخواست پر کسی قسم کی کاروائی کا اردہ نہیں ہےجبکہ ختم نبوت ہم سب کا عقیدہ ہےاور ضلعی انتظامیہ عقیدہ ختم نبوت پر آنچ نہیں آنے دیں گی۔

قبل ازیں اس سلسلے میں علاقہ بکٹ گنج کے عوام نے مسمارشدہ قادیانیوں کی عبادت گاہ کی دوبارہ تعمیر کرنے کی مزمت کرتے ہوئے احتجاجی اجلاس کیا اجلاس کی صدارت یوسی بکٹ گنج تحریک انصاف کے صدر اور سابقہ ناظم ساجداقبال مہمند نے کی اجلاس میں سیٹیزن پورٹل پر مردان کے ایک شہری کی جانب سےدئیےگئے درخواست کی مزمت کی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اقلیتوں کے تحفظ کی دعویدار حکومت علاقہ بکٹ گنج میں قادیانیوں کی مسمارشدہ عبادت گاہ کو دوبارہ تعمیر کردیا جائے جس پر مردان کے اسسٹنٹ کمشنر اورتحصیل دار نے متعلقہ پٹواری سے رپورٹ طلب کی جس پر علاقہ عمائدین مشتعل ہوگئے اور ایک احتجاجی اجلاس طلب کیا گیا جس میں دس رکنی کمیٹی بنائی گئی اور فیصلہ کیاگیا کہ قادیانیوں کی عبادت گاہ کو کسی بھی صورت دوبارہ تعمیر نہیں کرنے دیں گے۔

اس حوالے سے ساجد اقبال مہمند نے کہا کہ ہم نے علاقہ عمائدین پر مشتمل دس رکنی کمیٹی بنائی ہے اور وہ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ سے ملاقات کرینگے انہوں نے کہا کہ اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ مسمارشدہ عبادت گاہ کو کسی صورت دوبارہ تعمیر نہیں ہونے دینگے اور اگر کسی نے کوشش کی تو ہم اسی جگہ اپنے لئے قبریں کھود دیں گے جبکہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس متنازعہ زمین پر کاروائی کے لئے سیکشن فور بھی لگادی گئی ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے یوسی بکٹ گنج کے رہنماء دلاور شاہ نے ٹی این این کو بتایا کہ قادیانیوں کی مسمارشدہ عبادت گاہ پر کسی صورت دوبارہ تعمیر نہیں ہونے دینگے اور اس سلسلے میں تمام سیاسی پارٹیوں کے کارکن ایک صفحے پر ہیں اور نہیں چاہتے کہ یہاں دوبارہ مرزائیوں کی عبادت گا بن جائے۔

یادرہےکہ مردان کے شہری علاقہ یونین کونسل بکٹ گنج میں دس مرلے زمین پر مشتمل عبادت گاہ کو علماء کی سربراہی میں مشتعل عوام نے 17اگست 1988کو مسمار کیا تھاجبکہ اس علاقے سے تمام قادیانی عقیدہ رکھنے والے خاندان دوسرے علاقے میں منتقل ہوچکے ہیں ۔

مقامی ختم نبوت کی تنظیم کے جنرل سیکرٹری مولانا ندیم نے بھی ایک ویڈیو بیان میں اس درخواست کی سختی سے مزمت کی اورضلعی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس قسم کے متنازعہ فیصلوں سے دور رہے جس سے عوام میں اشتعال پیدا ہونے کا اندیشہ ہو ۔

قادیانیوں(مرزائی)کے عبادت گاہ کی تعمیر کے حوالے سے مفتی لیاقت علی نے بتایا کہ قادیانی مرتد اسلام ہے اوراسے ایک اسلامی ملک میں کسی قسم کے عبادت خانے کی تعمیر کی اجازت نہیں ہوتی جبکہ دوسرے مذاہب اہل کتاب وغیرہ جن کے آباؤاجداد اسی مزہب سے آرہے ہوتے ہیں کے عبادت خانے کی تعمیر کی اجازت ہوتی ہے۔

سیاسی مذہبی رہنما ڈاکٹر عطاء الرحمن نے ٹی این این کے رابطہ کرنے پر بتایا کہ آئین پاکستان نے قادیانیوں کو اقلیت قراردیا ہے اوراس پر پابندی عائد کی گئی ہے قادیانی مسجد کے نام پر عبادت گاہ نہیں بنا سکتے لیکن قادیانی ابھی تک اپنے آپ کو اقلیت قرار نہیں دیتے اور عبادت گاہوں کو بھی مسلمانوں کی عبادت گاہوں کی شکل دیتے ہیں جو کہ آئینی خلاف ورزی ہے۔

اس حوالے سے درخواست کنندہ نسیم احمد نامی مردان کے شہری سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن نمبر بند ہونے کی وجہ سے رابطہ نہ ہوسکا۔