ضم شدہ قبائلی اضلاع کے کھلاڑیوں کی احساس محرومیوں کو جلد ختم کرینگے

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

حکومت خیبر پختونخواہ نے قبائلی اضلاع کیلئے ساڑھے سات ارب روپے انفرا سٹرکچر جن میں سپورٹس کمپلیکس، سپورٹس گراؤنڈ جبکہ 3 ارب مختلف سرگرمیوں کیلئے مختص کئے ہیں۔

قبائلی اضلاع کے طلباء میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔ بد امنی کے شکار عوام اب ترقی کی راہ پر گامزن ہوگی۔

ان خیالات کا اظہار ڈائریکٹر سپورٹس مرجر قبائلی اضلاع محمد نواز خان نے کیپٹن روح اللہ شہید سپورٹس سٹیڈیم غلنئی میں پرائیویٹ سکولز گالا کے افتتاحی تقریب سے خطا ب کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ضم شدہ قبائلی اضلاع کے کھلاڑیوں کی احساس محرومیوں کو جلد ختم کرینگے اور ہنگامی بنیادوں پر 0 8 کروڑ روپے کے گراؤنڈز تعمیر ہو جائیگی۔

تقریب میں اسسٹنٹ کمشنر صاحبزادہ اصغر علی، سپورٹس منیجر سعید اختر، اسسٹنٹ ڈائریکٹرحنیف اعوان، پرائیویٹ سکولز صدر ڈاکٹر بختی جان، باجوڑ صدر بہادر سعید، کے پی کے کے صدر عقیل رازق، ملک نثار احمد حلیمزئی، جہانزیب مہمند کے علاوہ سکولز اساتذہ، مقامی مشران نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

سپورٹس گالا میں 22 پرائیویٹ سکولز کے طلباء حصہ لے رہے ہیں۔ جس میں کرکٹ، والی بال، فٹ بال، اتھلیٹکس و دیگر کھیل شامل ہیں۔ کھیل 5 نومبر سے 18 نومبر تک جاری رہیں گے۔

سپورٹس ڈائریکٹر محمد نواز خان نے کہا کہ موجودہ حکومت نے قبائلی اضلاد کے انفرا سٹرکچر کیلئے ساڑھے سات ارب روپے مختص کئے ہیں جس میں 80 کروڑ روپے مہمند کیلئے بھی مختص کئے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قبائل جو کہ دہشت گردی کی جنگ سے نکل چکے ہیں۔ حالانکہ قبائلی کھلاڑیوں میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں مگر اس کو اُبھارنے کیلئے اس طرح کی سرگرمیوں کا انعقاد بہتر ہوگا۔

آخر میں سپورٹس منیجر سعید اختر نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ضلع مہمند کے تمام کھلاڑیوں کے احساس محرومیوں کے خاتمے کیلئے خصوصی اقدامات کئے جائینگے  اور کھلاڑیوں کیلئے دستیاب وسائل بروئے کار لائینگے۔