خیبر پختونخوا : لانگ مارچ میں کریک ڈاؤن کیخلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان

خیبر پختونخوا حکومت نے 25 مئی کے پی ٹی آئی لانگ مارچ کے دوران سڑکوں کی بندش اور عوام پر تشدد کے تناظر میں مستقبل میں ایسی صورت حال سے بچنے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

وزیراعلیٰ محمود خان کی زیر صدارت منعقدہ صوبائی کابینہ کے خصوصی اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے معاون خصوصی برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ اس سلسلے میں وزیراعلیٰ نے دو رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے.

انہوں نے کہا کہ میں ان کے علاوہ وزیر قانون فضل شکور شامل ہیں اور ہم ایڈووکیٹ جنرل سے مشاورت کے بعد آئین کے آرٹیکل 184 اے کے تحت سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کے علاوہ دیگر آئینی، قانونی اور سیاسی آپشنز بھی استعمال کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے قائدین اور وزیراعلیٰ وزراء کے خلاف بے بنیاد مقدمات درج کیے گئے، وفاق نے پرامن مارچ کو خونی مارچ میں تبدیل کرنے کی کوشش کی، مفاد عامہ کے کام کو مشکل کا باعث بنا دیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی کابینہ نے اس صورتحال کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا تاکہ مستقبل میں روک تھام کی جاسکے، قانونی و آئینی لائحہ عمل کے لیے وزیر اعلیٰ کو اختیار دیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے دو رکنی کمیٹی بنا دی ہے، پارلیمان و اسمبلیوں میں بھی آواز اٹھائیں گے، کمیٹی میں وزیر قانون فضل شکور اور معاون خصوصی اطلاعات شامل ہیں، ہم آرٹیکل 184 اے کے تحت سپریم کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مرکز نے خیبر پختونخوا کے خلاف اعلان جنگ کیا ہوا ہے، اس لیے ہم کارروائی کے لیے حکمت عملی وضع کریں گے، ہم نے موٹروے پر ایمبولینسز کو راستہ دیا.

انہوں نے کہا کہ ذاتی رائے ہے کوئی بھی غلط کام ہو تو لوگوں کو عدالتوں سے رجوع کرنا چاہیے، ہماری حکومت نے کسی بھی جماعت کو مارچ کرنے سے نہیں روکا.

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اتنا تشدد نہ کرتی اور لوگوں کو نہ روکا جاتا تو عوام کی بڑی تعداد مارچ کا حصہ ہوتی۔ حکومت طاقت کا استعمال نہ کرتی تو ہمارے ورکر بھی مشتعل نہ ہوتے۔