وزیرستان کا صدیوں سے مقبول روایتی لباس ‘گنڑ خت’

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان میں صدیوں سے مقبول روایتی لباس ‘گنڑ خت’ کے استعمال میں رفتہ رفتہ کمی آرہی ہے، یہ لباس زیادہ تر وزیر قوم کی خواتین زیب تن کرتی ہیں تاہم گزشتہ 20 سالوں سے اس لباس کے استعمال میں کمی واقع ہوئی ہے جس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آنے والے چند سالوں میں اس لباس کا استعمال اور صدیوں سے رائج اس لباس کی تاریخ اور کلچر ختم ہوجائے گی کہ بندوبستی علاقوں میں رہائش پذیر وزیر قبائل کی خواتین نے تو اس لباس کا استعمال بالکل ترک تو وزیرستان کے پہاڑی علاقوں میں مقیم خواتین نے اس لباس کا استعمال کم کردیا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق پہاڑی علاقوں میں رہائش پذیر خاندانوں کی 100 خواتین میں سے 30 خواتین اس لباس کو استعمال میں لا رہی ہیں۔

اس لباس کو تیار کرنے کیلئے 18 سے لیکر 24 میٹر تک کا کپڑا درکار ہوتا ہے اور یہ لباس 20 سے 40 سال تک استعمال میں لایا جاسکتا ہے، اس لباس میں ہاتھ سے کشیدہ کردہ بہت ساری چیزیں استعمال کی جاتی ہیں جن میں ‘گریوون’ (چولی) ‘بچکاک’، ‘لستینڑ خولے’، ‘تاپیر’، پیسے وغیرہ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ اس میں جست سے بنی ہوئی پوشاکی اشیاء جیسے گل ماخئی، ماوٹے اور گھنگروؤں کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔

اس لباس کو تیار کرنے پر40 ہزار سے لیکر 1 لاکھ 50 ہزار روپے تک لاگت آتی ہے اور اس کو تیار کرنے میں ایک مہینے کا وقت درکار ہوتا ہے، کچھ ماہر خواتین اس لباس کو 15 دن میں بھی تیار کرسکتی ہے۔ لباس کی تیاری ہنرمند خواتین کرتی ہیں جس سے حاصل ہونے والی رقم سے اُن کے گھر کا چولہا جلتا ہے۔