نامور پاکستانی کوہ پیما علی رضا سدپارہ اسکردو میں انتقال کر گئے

نامور پاکستانی کوہ پیما علی رضا سدپارہ لگنے والی چوٹ سے جاں بر نہ ہو سکے اور اسکردو میں انتقال کر گئے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستانی کوہ پیما علی رضا سدپارہ کا انتقال ہو گیا، ان کی نماز جنازہ آج صبح 10 بجے اولڈِینگ امام بارگاہ میں ادا کی جائے گی۔

علی رضا سدپارہ رواں ماہ پہاڑ سے گرنے کے باعث زخمی ہو گئے تھے اور گزشتہ ایک ہفتے سے ریجنل اسپتال اسکردو میں زیر علاج تھے، ان کی عمر 56 برس تھی۔

سدپارہ نے 8 ہزار میٹر سے بلند 4 چوٹیوں سمیت 7 ہزار میٹر سے بلند پہاڑوں کو 17 بار سر کیا تھا، علی رضا نے رواں سال کے ٹو کی مہم جوئی پر جانا تھا۔

عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما 17 مئی کو صبح معمول کی پریکٹس کے دوران پہاڑ سے پھسل کر زخمی ہوئے تھے، آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر ناصر کا کہنا تھا کہ علی رضا سدپارہ کی ریڑھ کی ہڈی پر گہری چوٹ لگی ہے۔

سیکریٹری الپائن کلب پاکستان کرار حیدری نے کہا تھا کہ سدپارہ پہاڑ سے پھسل کر کھائی میں جا گرے تھے، جس کے باعث ان کی ریڑھ کی ہڈی اور پسلیاں ٹوٹ گئیں۔

چیف سیکریٹری گلگت بلتستان نے کہا کہ علی رضا سدپارہ کے کارناموں پر قوم کو فخر ہے۔

دسرے جانب عالمی شہرت یافتہ پاکستانی کوہ پیما علی رضا سدپارہ پہاڑ سے گر کر زخمی ہوگئے۔

سیکریٹری الپائن کلب کرار حیدری نے بتایا کہ کوہ پیما علی رضا سدپارہ تربیت کے دوران پہاڑ سے گر کر زخمی ہوگئے جس کے باعث ان کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی ہے۔

کرار حیدری کے مطابق علی رضا سدپارہ معمول کی مشق کے لیے پہاڑ پر مہم جوئی کررہے تھے اس دوران وہ پہاڑ سے پھسل کر کھائی میں گر گئے

انہوں نے بتایا کہ حادثے کے بعد علی رضا کو اسپتال منتقل کای گیا جہاں ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ان کی ریڑھ کی ہڈی اور پسلیاں ٹوٹی ہیں۔

ریجنل ہیڈ کوارٹر اسپتال اسکردو کے آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر ناصر کے مطابق آئندہ چوبیس گھنٹے کے دوران ان کا آپریشن کریں گے۔

واضح رہے کہ علی رضا سدپارہ کو 8 ہزار میٹر بلند چوٹیوں کو 17 بار سر کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔