زراعت و لائیوسٹاک شعبوں کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

صوبائی وزیر زراعت، لائیوسٹاک و فشریز محب اللہ خان نے کہا ہے کہ حکومت ضم شدہ قبائلی اضلاع میں زراعت و لائیو سٹاک شعبوں کی ترقی کیلئے کوشاں ہے اور اس ضمن میں خیبر پختونخواہ میں گندم کی پیداوار میں اضافے کے پروگرام کا آغاز قبائلی ضلع باجوڑ سے کیا جا رہا ہے جس کے تحت زمینداروں کو گندم اگانے کے بعد گندم کے بیج و کھاد کی 50 فیصد رعایتی قیمت پر واپس کیے جائیں گے، پروگرام کے ابتدائی مرحلے میں باجوڑ میں گندم بیج کی 1000 ہزار بوریاں تقسیم کی جائیں گی، وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ محمود خان، گورنر شاہ فرمان اور جہانگیر خان ترین اس منصوبے کا افتتاح کریں گے اور ساتھ ہی غریب خاندانوں میں مرغیاں بھی تقسیم کرینگے۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے دورہ باجوڑ کے موقع پر صدر مقام خار میں میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا، اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل زراعت (ایکسٹینشن) خیبر پختونخواہ و ضم شدہ اضلاع رحمت الدین، ڈائریکٹر جنرل لائیوسٹاک خیبر پختونخواہ عالم زیب، ڈائریکٹر لائیوسٹاک ضم شدہ اضلاع ملک آیاز وزیر، اراکین صوبائی اسمبلی انورزیب خان، اجمل خان اور پی ٹی آئی کے مقامی قائدین بھی موجود تھے۔

محب اللہ خان نے کہا کہ پاکستان کی 72 سالہ تاریخ میں پہلی بار کسی حکومت نے زرعی ایمرجنسی لگائی ہے اور وفاقی حکومت نے 309 ارب روپے کے منصوبے شروع کیے ہیں جن میں صوبہ خیبر پختونخواہ بشمول ضم شدہ اضلاع کیلئے 11پراجیکٹس کا باقاعدہ آغاز کیا جارہاہے، ان پراجیکٹس کے نتیجے میں ملکی اور مقامی سطح پر گندم کی پیداوار میں اضافہ، چاول کی پیداوار کو فروغ دینا، تیل دار فصلوں کی پیداوار میں اضافے سے مقامی اور ملکی سطح پر زرمبادلہ بچانا، چینی کی پیداوار میں اضافے کیلئے گنے کی فصل کو فروغ دیا جارہاہے جس کے لئے ضلعی سطح پر قبائلی اضلاع میں زمینداروں کیساتھ حکومت کی طرف سے بھرپور تعاون کیاجائے گا، زراعت کے فروغ کیلئے ضلع باجوڑ میں مقامی زمینداروں کو ہنگامی بنیادوں پر ایک گندم کی بیج کی ایک ہزار بوریاں فراہم کی جارہی ہیں، اس کے علاوہ پانی کی گرتی ہوئی سطح اور ذخائر کو محفوظ کرنے اور زمینی کٹاؤ کو روکنے کیلئے ضم شدہ اضلاع میں چھوٹے چھوٹے ڈیم بنائے جارہے ہیں تاکہ وہاں پانی کی گرتی ہوئی سطح کو بھی محفوظ کیا جائے اور زراعت بھی ترقی کرسکے، علاوہ ازیں قبائلی اضلاع میں زرعی انجینئرنگ کے تحت مقامی زمینداروں کی بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنانے کیلئے جامع منصوبہ بندی کی گئی ہے تاکہ بنجر زمینوں کو رعایتی نرخوں پر قابل کاشت بنایا جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخواہ بشمول ضم شدہ اضلاع میں غربت مکاؤ پروگرام بوساطت دیہی مرغبانی کا آغاز کیا جا رہا ہے جس کا افتتاح گورنر، وزیر اعلی ٰ خیبر پختونخواہ اور جہانگیر خان ترین کریں گے، قبائلی ضلع باجوڑ کیلئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ ہم گندم کی پیداواری منصوبے بڑھانے کا آغاز باجوڑ سے کررہے ہیں۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ زراعت و لائیوسٹاک شعبوں کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے، خیبر پختونخواہ میں زراعت و لائیو سٹاک کے جتنے بھی پراجیکٹس شروع کئے گئے ہیں ان میں ضم شدہ اضلاع کا پورا حصہ شامل ہے اور وزیر اعظم عمران خان کی خصوصی توجہ قبائلی اضلاع پر مرکوز ہے۔

محب اللہ خان نے کہا کہ 1947 سے لیکر اب تک سابق ادوار میں 72 ارب روپے خرچ کئے جاچکے ہیں جبکہ موجودہ حکومت نے قلیل مدت اور آئندہ پانچ سالہ دور حکومت میں 96 ارب روپے مختص کیے ہیں جو ایک ریکارڈ ہے۔

انھوں نے کہا کہ مرغبانی پروگرام میں خصوصی افراد، بیواوں اور یتیموں کو اپنے پیروں پے کھڑا کرنے اور ذریعہ معاش فراہم کرنے میں خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے، وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں موجودہ حکومت کا ایک اور اعزاز یہ بھی ہے کہ پچھلے ادوار میں 25 ہزار ندی نالیاں پختہ کی جا چکی ہیں جبکہ موجودہ حکومت نے آئندہ پانچ سالوں میں 32ہزار آبپاشی کی ندی نالیاں پختہ کرنے کا عزم کیا ہے۔