حکومت اراکین کا دہشتگردی کی لہر کے حوالے سے تبادلہ خیال

وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو ٹیلی فون کیا اور شہر میں جاری دہشت گردی کی لہر کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔

وزیراعظم نے بولٹن مارکیٹ دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے دشمن پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن اس ملک کے عوام متحد اور اس طرح کی حرکتوں کو ناکام بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعظم کو صدر دھماکے اور بولٹن مارکیٹ دھماکے کے دونوں واقعات پر بریفنگ دی اور انہیں سندھ حکومت کی جانب سے اس خطرے سے نمٹنے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔

وزیراعظم نے وزیراعلیٰ سندھ کو صورتحال پر قابو پانے کے لئے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

دسری جانب کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے لاہور کو بڑی تباہی سے بچا لیا۔ دو خطرناک دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار ملزمان میں ثناء اللہ اور عبدالرزاق شامل ہیں۔

محکمہ انسداد دہشتگردی کے ترجمان نے کہا کہ گرفتار ملزمان نے اسلام آباد اور ملتان میں بھی دھماکوں کا انکشاف کیا ہے۔ ملزمان لاہور میں مزید دھماکے کرنے کی منصوبہ بندی بھی کر رہے تھے۔ ملزمان کو بلوچستان سے خصوصی اہداف دیکر لاہور بھیجا گیا تھا۔

ملزمان نے اعتراف کیا کہ ہے دھماکے پڑوسی ملک کی خفیہ ایجنسی کی ایماء پر کیا۔ دہشتگردوں سے ڈیٹو نیٹر، ریموٹ کنٹرول اور بیٹریاں برآمد ہوئی ہیں۔ 20 جنوری کو انارکلی دھماکے میں تین افراد جاں بحق اور 33 زخمی ہوئے تھے۔

ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق دھماکے کی ذمہ داری 2 کالعدم تنظیموں نے قبول کی تھی۔

خاتون کی گرفتاری کیخلاف عوام کا احتجاج

گزشتہ روز سی ٹی ڈی نے ہوشاب میں ایک کارروائی کرتے ہوئے نور جان بلوچ نامی خاتون کو گرفتار کرلیا تھا۔ مبینہ خاتون پر خودکش حملہ آور ہونے اور غیر ملکی قافلے پر حملے کا منصوبہ بنانے کے الزامات لگائے گئے ہیں اور ایف آئی آر درج کرلیا گیا ہے۔

مبینہ کارروائی اور خاتون کی گرفتاری کے خلاف تربت میں احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین نے احتجاجاً تربت سے ہوشاب تک سی پیک روڈ کو بلاک کر رکھا ہے۔ احتجاجی مظاہرے میں خواتین اور بچےبھی موجود ہیں۔

ذرائع کے مطابق احتجاج کی وجہ سے سی پیک روڈ کل سے آمدورفت کیلئے مکمل طور پر بند ہے۔ سی پیک روڈ پر گاڑیوں کی کثیر تعداد پھنس چکی ہیں۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے مظاہرین سے مذاکرات کیلئے تاحال کوئی نمائندہ نہیں آیا ہے۔