شمالی وزیرستان میں ٹریفک پولیس کو تعینات کیا جائے

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

شمالی وزیرستان کے تحصیل میرعلی میں ٹریفک کا مسئلہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق ٹریفک کے لئے کوئی مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے حادثات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ٹریفک پولیس نہ ہونے کوئی وجہ سے رکشے اور دوسری گاڑیاں روڈ کے کنارے پارک کئے جاتے ہیں جسکی وجہ سے ٹریفک جام ہوتی ہے اور آدھا گھنٹے کا سفر 2، 3 گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔

مقامی سوزکی ڈرائیور قسمت اللہ نے ٹی این این کو بتایا کہ سبزی منڈی کے ساتھ مال مویشی کی منڈی بھی ٹریفک کے مسئلے میں سب سے بڑا مسئلہ ہے اس  کے لئے بھی کسی مخصوص جگہ کا انتخاب کیا جائے۔ قسمت اللہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے میرعلی بازار سمیت پورے وزیرستان میں ٹریفک پولیس تعینات کیا جائے تاکہ ٹریفک کے مسائل میں کمی آسکیں۔

ایک دوسرا ڈرائیور سعید اللہ جوکہ چنگچی چلاتا ہے اس نے ٹی این این کو بتایا کہ ایک طرف تو سڑک تنگ ہے تو دوسری جانب راستے میں ریڑھی والے بھی کھڑے ہوتے ہیں جس سے مسائل اور بھی بڑھ جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دوکانداروں نے بھی سڑک کے دونوں جانب چیزیں رکھی ہوتی ہے جس سے راستہ اور بھی تنگ ہوجاتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ان کو سہولیات فراہم کی جائے تاکہ ان کی مشکلات میں کمی آسکیں۔

شمالی وزیرستان کے عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹریفک نظام کو کنٹرول کرنے کے لئے انکو جلد از جلد ٹریفک پولیس دیا جائے، میر علی بازار کے ساتھ لوکل گورنمنٹ کی طرف سے منظور شدہ بس سٹینڈ پر کام شروع کیا جائے جس کے لئے فنڈ کی منظوری بھی ہوچکی ہے اور موسکی قوم نے اس کے لئے اپنی زمین بھی دی ہے۔

اس سلسلے میں ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ کہ پارکنگ کے لئے کوئی مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے ان کو مجبورا روڈ کے کنارے گاڑی پارک کرنا پڑتا ہے لہذا مخصوصی جگہوں پر پارکنگ اور گاڑیوں کے لئے مناسب اڈے بنائے جائیں۔