سینئر سیاستدانوں کے بیان کو انتہائی نامناسب قرار

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

پاک فوج کے شعبہہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے کور کمانڈر پشاور کے حوالے سے سینئر سیاستدانوں کے بیان کو انتہائی نامناسب قرار دے دیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پشاور کور کمانڈر کے حوالے سے اہم سینئر سیاستدانوں کے حالیہ بیانات انتہائی نامناسب ہیں، ایسے بیانات سپاہ اور قیادت کے مورال اور وقار پر منفی طور پر اثر انداز ہوتے ہیں.

انہوں نے کہا کہ سینئر قومی سیاسی قیادت سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ادارے کے خلاف ایسے متنازع بیانات دینے سے اجتناب کریں گے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پشاور کور پاکستان آرمی کی ایک ممتاز فارمیشن ہے، جو دو دہائییوں سے دہشت گردی کے خلاف قومی جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہی ہے، اس اہم کور کی قیادت ہمیشہ بہترین پروفیشنل ہاتھوں میں سونپی گئی ہے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ افواج پاکستان کے بہادر سپاہی اور آفیسرز ہمہ وقت وطن کی خودمختاری اور سالمیت کی حفاظت اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر رہے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ کچھ روز سے سیاسی لیڈرشپ کے بیانات انتہائی نامناسب ہیں جبکہ ہم بار بار درخواست کر رہے ہیں فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے کیونکہ ہمارا سیاست میں کوئی عمل دخل نہیں ہے اور ہماری تمام لیڈر شپ کی اپنی ذمہ داریوں پر توجہ ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آرمی چیف کی تقرری کا طریقہ کار آئین میں وضع کیا گیا ہے، آئین و قانون کے تحت آرمی چیف کی تقرری کی جائے گی، بلاوجہ اس عہدے پر بحث کرنا معاملے کو متنازع بنانے والی بات ہے۔

ترجمان پاک فوج نے مزید کہا کہ فوج کو الیکشن کرانے کی دعوت دینا مناسب بات نہیں کیونکہ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے اور پاکستان کے قانون کے میں فوج کو سیاست سے دور رہنے کا حکم ہے، بار بار درخواست کی ہے مسلح افواج کو سیاسی گفتگو سے باہر رکھیں.

انہوں نے کہا کہ ہمارے سیکیورٹی چیلنجز اتنے بڑے ہیں کہ ہم ملک کی سیاست میں شامل نہیں ہوسکتے، اگر ملک کی حفاظت کے اندر کوئی بھول، چونک ہوئی تو معافی کی گنجائش نہیں ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ فوج کے اندر تقسیم ہوسکتی ہے تو اس کو فوج کے بارے پتا ہی نہیں، پوری فوج ایک لڑی میں پروئی ہوئی ہے، کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ کوئی فوج کے اندر تقسیم پیدا کرسکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ واضح کر دوں جائز تنقید سے مسئلہ نہیں ہے، خاص طور پر سوشل میڈیا پر تنقید نہیں پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، واضح کردوں فوج کے اندر کسی بھی رینک میں کمانڈ کا عہدہ اہم ہوتا ہے، کسی بھی کور کی کمانڈ آرمی چیف کے بعد اہم عہدہ ہوتا ہے.

انہوں نے کہا کہ ہماری 70 فیصد فوج ڈپلائمنمنٹ ہے، مختلف جہگوں پر کاؤنٹر ٹیررازم آپریشن کررہے ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم نے بہت کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جلد الیکشن کا فیصلہ سیاست دانوں نے کرنا ہے، فوج کا کوئی کردارنہیں ہے، سیاست دان اس قابل ہیں وہ بیٹھ کربہترطریقے سے فیصلہ کرسکتے ہیں، جب بھی فوج کوکسی سیاسی معاملے میں بلایا گیا تومعاملہ متنازع ہوجاتا ہے، الیکشن کے دوران سیاست دان فوج کوازاے سیکیورٹی بلائیں گے تواپنی خدمات پیش کریں گے۔

ڈی جی آئی ایس پی کے مطابق فوج کبھی بھی سیاست دانوں کو ملاقات کے لیے نہیں بلاتی، جب فوج کو درخواست کی جاتی ہیں تو پھر آرمی چیف کو ملنا پڑتا ہے، اس حوالے سے ساری کی ساری ذمہ داری سیاست دانوں پر ہوتی ہے، ان دوروں کو اوپن نہیں کیا جاتا۔