بھارت کے ساتھ تجارت کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

ترجمان وزارت تجارت نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارت کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے

ترجمان وزارت تجارت کے مطابق وزارت تجارت 46ممالک میں 57تجارتی مشنوں کا انتظام کرتی ہے، ان ممالک میں نئی دہلی، بھارت میں وزیر تجارت، سرمایہ کاری کا عہدہ شامل ہے اور نئی دہلی میں وزیر تجارت، سرمایہ کاری کا عہدہ دو دہائیوں سے موجود ہے۔

ترجمان کے مطابق اس کا بھارت سے تجارت چلانے یا موجودہ تناظر میں کوئی تعلق نہیں ہے، تجارت اور سرمایہ کاری افسران کے انتخاب کا عمل دسمبر2021 میں شروع ہوا اور انٹرویو بورڈ سفارشات اپریل 2022 کو پچھلی حکومت میں وزیراعظم دفتر کو بھیجی گئی تھیں۔

ترجمان نے کہا ہے کہ حکومت نے 15 ٹریڈ افسران کے انتخاب کیلئے پچھلی حکومت کی سفارشات پر منظوری دی ہے اور سرمایہ کاری افسر نئی دہلی کی تقرری تجارتی نرمی کے تناظر میں نہیں ہے۔

بعد ازاں تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے علم میں لایا گیا شہباز حکومت نے ہندوستان کیساتھ تجارت کی بحالی کا فیصلہ کیا ہے اور بھارت میں کامرس افسر تعینات کرنے کی منظوری دیدی ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ کہ حکومت نے تن تنہا بہت بڑا فیصلہ کیا ہے، حکومت بھارت سے تجارت کے فیصلے پر فوری نظرثانی کرے کیونکہ اس فیصلے سے حکومت کے فیصلے سے کشمیریوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے، اور ان کی دل آزاری ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ پی ٹی آئی کی سابق حکومت نے بھارت کے 5 اگست کے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے حوالے سے اقدام پر تجارت پر پابندی عائد کردی تھی۔

اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارت سے تجارت کی بحالی کشمیریوں کے خون سے غداری کے مترادف ہوگی۔